رسائی کے لنکس

logo-print

قومی کرکٹ ٹیم سے نکالے جانے پر سخت مایوسی ہوئی تھی: سرفراز احمد


فائل فوٹو

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر سرفراز احمد نے کہا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم سے نکالے جانے پر سخت مایوسی ہوئی تھی۔

سرفراز احمد کے بقول ابتدا میں تو ان کے لیے یہ بات تسلیم کرنا ہی مشکل تھی کہ انہیں کپتان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے ساتھ ساتھ ٹیم سے بھی اچانک ڈراپ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے انہیں مایوسی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق قومی ٹیم میں واپس آنے کے بعد وہ اپنے کیریئر کو زیادہ بہتر اور یادگار بنانے کے خواہش مند ہیں۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر مجھ سے کچھ نہ کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی جس کی وجہ سے ٹیم سے ڈراپ کیا گیا لیکن اب کوشش ہوگی کہ ایسی غلطیاں نہ ہوں۔

کرکٹ کی مقبول ویب سائٹ 'کریک انفو' کے مطابق سرفراز احمد کا یہ بیان دورہ انگلینڈ کے لیے منتخب ہونے والے 29 کھلاڑیوں میں شمولیت کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

انہیں گزشتہ سال اکتوبر میں نہ صرف ٹیم کی قیادت سے ہٹا دیا گیا تھا بلکہ قومی ٹیم سے بھی ڈراپ کر دیا گیا تھا۔

مقامی میڈیا سے گفتگو میں سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ قومی اسکواڈ میں واپسی پر خوش ہیں۔ کوشش ہوگی کہ بہتر سے بہتر پر فارم کریں۔

سرفراز احمد نے اس سوال پر کہ کیا ٹیم کی قیادت سے ہٹائے جانے اور ٹیم سے ڈراپ کیے جانے پر انہیں مایوسی ہوئی تھی؟

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ٹیم کی قیادت کرنے اور ٹیم کا اہم حصہ رہنے کے بعد ڈراپ ہونے پر مایوسی تو لازمی تھی لیکن میں نے منفی سوچ کو اپنے اوپر حاوی ہونے کا موقع نہیں دیا۔

ان کے بقول انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پاکستان سُپر لیگ میں خود کو مصروف کر لیا تھا۔ یہ اقدام خود ان کے لیے مثبت ثابت ہوا۔

ایک اور سوال کے جواب میں سرفراز احمد نے کہا کہ کپتان رہنے کے بعد عام کھلاڑی کی حیثیت سے کھیلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کوشش کروں گا کہ اچھی سے اچھی پرفارمنس دوں تاکہ ٹیم میں جگہ پکی کرنے کا موقع مل سکے۔

سرفراز احمد دورہ انگلینڈ کے دوران وکٹ کیپر رضوان احمد کا بیک اپ ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کانٹریکٹ میں بھی سرفراز احمد کی کیٹیگری اے سے کیٹیگری بی تنزولی کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG