رسائی کے لنکس

حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی کارروائی کر رہے ہیں: سرتاج عزیز


مشیر خارجہ سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں مین کوئی تمیز نہیں رکھتا اور حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

پاکستان اپنے بہترین قومی مفاد میں تمام دہشت گرد گروپوں بشمول حقانی نیٹ ورک کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر رہا ہے۔

یہ بات منگل کو وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے ایوانِ بالا "سینیٹ" میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہی۔

رواں ماہ ہی امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں پانچ رکنی وفد کے دورہ پاکستان اور اس دوران ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وفد کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں جس میں انھیں دہشت گردی کے خاتمے اور پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے بارے میں پاکستان کی کوششوں سے تفصیلاً آگاہ کیا گیا جسے امریکی وفد نے سراہا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں مین کوئی تمیز نہیں رکھتا اور حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

امریکہ اور افغانستان یہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان اپنے ہاں موجود ان عناصر کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے جو افغانستان میں تخریبی کارروائیاں کرنے میں ملوث ہیں۔

لیکن اسلام آباد ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

مشیر خارجہ نے کہا کہ امریکی وفد پر واضح کیا گیا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی نہیں، سیاسی ہے اور ان کے بقول وہاں مزید فوجوں کی تعیناتی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

افغانستان میں اس وقت تقریباً 13 ہزار بین الاقوامی فوجی تعینات ہیں جو مقامی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

ان میں اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے اور امریکی فوجی حکام نے یہاں مزید فوجی دستوں کی تعیناتی کا عندیہ دے رکھا ہے۔

سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے مسلم ممالک کے فوجی اتحاد کے بارے میں پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا اور بتایا کہ اس کا ضابطہ کار کے بارے میں پہلے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جائے گا۔

پاکستانی قانون ساز اپنے ملک کی اس فوجی اتحاد میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے رہے ہیں کہ اس کے خدوخال یا ضابطہ کار پر وضاحت کے بغیر اس میں شمولیت مسلم دنیا میں پاکستان کی غیرجانبداری کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سعودی عرب کی زیرِ قیادت اس اتحاد میں ایران اور بعض دیگر شیعہ ریاستیں شامل نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG