رسائی کے لنکس

تیل کی پیداوار، سعودی عرب اور روس کے تعاون کے اشارے


سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور روسی صدر پوٹن (فائل)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد، سعودی عرب اور روس نے تیل کی منڈی میں استحکام لانے کیلئے، جمعرات کے روز تعاون کرنے پر رضامندی کے اشارے دئے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان تیل کی پیداوار پر کسی سمجھوتے کی ناکامی کے بعد، تیل کی پیداوار بڑھانے کی ایک دوڑ شروع ہوگئی تھی جس سے منڈی میں تیل کی مانگ کم ہوتی گئی، اور ساتھ ہی، تیل کی قمتیں بھی بری طرح گرنا شروع ہو گئیں۔

تاہم، جمعرات کے روز روس کے وزیرِ توانائی الیگزینڈر نوویک نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس تیل کی پیداوار کو بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

سعودی سوچ سے مانوس ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب منڈی میں استحکام لانے کیلئے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں تعاون کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن، گزشتہ ماہ تیل کی رسد میں کمی کے حوالے سے سمجھوتے پر روس کی مخالفت نے مارکیٹ میں انتشار پیدا کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اُنہوں نے سعودی اور روسی رہنماؤں سے بات کی ہے، اور انہیں اعتماد ہے کہ دونوں ملک قیمتوں کے تعین پر نااتفاقی کے معاملے پر کسی سمجھوتے تک پہنچیں گے، اور آئندہ چند دنوں کے اندر اپنی تیل کی پیداوار میں کمی لاکر قیمتوں کو مستحکم کریں گے۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد، جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں دس فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ موجودہ حالات میں تیل کی منڈی کو مستحکم کرنے کیلئے پیداوار میں کمی کچھ مشکل ہوگی، کیونکہ تیل کی مانگ میں ایک تہائی کمی ہوئی ہے، یا کم از کم بیس ملین بیرل یومیہ کمی ہوئی ہے، جس کے معنی ہیں کہ پیداوار میں خاطر خواہ کمی ہو گی۔

سعودی عرب اور روس نے ایک دوسرے پر قیمتوں میں غیرمعمولی کمی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

کرونا وائرس کے نتیجے میں نقل و حمل پر مرتب ہونے والے اثرات کی وجہ سے سعودی عرب نے تیل کی پیداوار کم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، روس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

اس انکار کے ردِعمل میں سعودی عرب نے خام تیل کی برآمدی قیمتوں میں کمی کر دی اور اپنی پیداوار کو انتہائی درجے تک لے گیا، اور روس کا خام تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو مزید سستی قیمت پر تیل فراہم کرنا شروع کر دیا۔ سعودی عرب نے ریکارڈ بارہ ملین بیریل یومیہ پیداوار بڑھا دی۔

بدھ کے روز امریکہ کی وزارتِ توانائی نے سعودی عرب اور روس پر زور دیا کہ وہ تیل کی منڈیوں میں استحکام لانے کی کوشش کریں۔
روس کے وزیرِ توانائی نے رائٹرز کو بتایا کہ روس نے ابھی تک سعودی عرب کے ساتھ تیل کی منڈیوں کی صورتحال پر بات تو نہیں کی۔ تاہم، انہوں نے اس امکان کو رد بھی نہیں کیا۔

سعودی تیل کی بے تحاشا رسد ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اربوں کی تعداد میں دنیا کی آبادی، کرونا وائرس سے بچنے کیلئے گھروں میں بند ہے اور ہوائی، بحری اور بری سفر سے اجتناب کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG