رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب تیل کی برآمد میں ریکارڈ اضافہ کرے گا


فائل فوٹو

سعودی عرب نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ مئی سے اپنی تیل کی برآمد10.6 ملین بیرل روزانہ تک لےجائے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب آئل مارکیٹ میں اس کی روس کے ساتھ جنگ چل رہی ہے۔

اس وقت تیل کی قیمتیں 17 سال کی اپنی کم ترین سطح پر ہیں، جب کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے خطرات کے باعث دنیا کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے جس سے تیل کی طلب میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔

سعودی عرب کا شمار تیل برآمد کرنے والے دنیا کے چوٹی کے ملکوں میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی تیل کی برآمدات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ اس نے اپریل میں بھی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی مقدار طلب کے مقابلے میں بڑھتی جا رہی ہے۔

سعودی عرب کی توانائی کی وزارت کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ سعودی بادشاہت مئی سے اپنی تیل کی برآمد میں 6 لاکھ بیرل کا اضافہ کر دے گی جس سے ملک کی مجموعی برآمد 10.6 ملین بیرل روزانہ ہو جائے گی۔

سعودی عرب اس وقت تیل پیدا کرنے والے 24 رکنی ممالک کے گروپ اوپیک پلس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت تقریباً سات ملین بیرل تیل پیدا کر رہا ہے۔ روس بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔

سعودی عرب کے ہمسایہ خلیجی ملک متحدہ عرب امارات نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنی تیل کی پیداوار میں اگلے مہینے سے کم از کم ایک ملین بیرل کا اضافہ کر دے گا۔

اوپیک پلس کے رکن ممالک ایک ایسے موقع پر تیل کی پیداوار گھٹانے کا معاہدہ کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں جب کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کو مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے۔

سعودی عرب کی توانائی کی وزارت نے کہا ہے کہ وہ اپنی برآمدات میں اضافہ دو طریقوں سے کر رہے ہیں، ایک یہ کہ وہ ملکی ضروریات قدرتی گیس سے پوری کر رہے ہیں اور تیل برآمد کے لیے بچا رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے ملک کے اندر تیل کی کھپت کم ہو گئی ہے۔

اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 17 سال کی اپنی کم ترین سطح پر ہیں۔ پیر کے روز برنٹ آئل مارکیٹ میں ایک موقع پر تیل تقربیاً ساڑھے 22 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG