رسائی کے لنکس

logo-print

برف کا مجسمہ بنانا غیر اسلامی ہے: سعودی عالم


سعودی عالم دین شیخ محمد صالح المنجد سے ایک دینی ویب سائٹ پر برف سے مجسمہ بنانےکے حوالے سے فتوی مانگا گیا تھا۔

سعودی عرب کے ایک عالمِ دین نے اپنے فتوے میں 'سنو مین' یعنی برف سے مجسمے بنانے کو غیر اسلامی قرار دے دیا ہے جس پر سوشل میڈیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

سعودی عالم دین شیخ محمد صالح المنجد سے ایک دینی ویب سائٹ پر برف سے مجسمہ بنانےکے حوالے سے فتوی مانگا گیا تھا۔

سعودی عرب کے شمالی علاقوں میں حالیہ برف باری کے بعد یہ سوال وہاں رہنے والے ایک شخص کی طرف سے بھیجا گیا تھا جو بچوں کی خوشی کے لیے برف کا مجسمہ بنانا چاہتا تھا۔

مفتی شیخ صالح المنجد نے مذکورہ سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اسلام میں مجسمہ بنانے کی قطعی اجازت نہیں ہے اور کھیل یا تفریح میں بھی ایسا کرنا غیر اسلامی ہوگا۔

واضح رہے کہ اردن کے ساتھ واقع سعودی عرب کے سرحدی صوبے تبوک میں مسلسل تیسرے برس برف باری ہوئی ہے اور مشرق وسطی کے بیشتر علاقوں میں اس وقت شدید سردی پڑ رہی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مفتی المنجد نے اپنی دلیل میں کہا ہے کہ اللہ نے بے جان چیزوں مثلاً درختوں، بحری جہاز، پھل اور عمارتوں کی تصاویر بنانے کی اجازت دی ہے لیکن مجسمہ بنانا ایک انسان کی تصویر بنانے جیسا عمل ہے اور اسے اسلام کے سنی مکتبِ فکر کی تشریح کے مطابق گناہ سمجھا جائے گا۔

ان کے اس فتوی کے بعد سوشل میڈیا بشمول ٹوئٹر پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور کئی افراد نے اس فتوے پر برہمی ظاہر کی ہے۔

توئٹر پر ایک صارف نے کہا ہے کہ ''علماء کو ہر چیز سے اپنے ایمان کا خوف ہے''۔

ایک اور صارف نے ایک عربی پوشاک میں ملبوس شیخ کے ساتھ ایک برف کی دلہن کی تصویر پوسٹ کی ہے جس کے ساتھ اس نے لکھا ہے کہ ''پابندی کی وجہ بغاوت کا خوف ہے''۔

ایک اور صارف نے تحریر کیا ہے کہ ملک دو قسم کے لوگوں سے دوچار ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جو زندگی کے ہر معاملے پر فتوی مانگتے ہیں اور دوسرے علما ہیں جو فتوی کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔''

تاہم ٹوئٹر پر شیخ صالح المنجد کے حامیوں کی طرف سے بھی ٹوئٹس کی گئی ہیں جن کا موقف ہے کہ سنو مین بنانا کافروں سے مشابہت رکھتا ہے اور اس سے بت سازی کو فروغ ملتا ہے۔

XS
SM
MD
LG