رسائی کے لنکس

منگل کے روز سعودی حکومت کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ اور سکائپ جیسے انٹرنیٹ پروگرام اب صارفین کے لیے  بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔

سعودی حکام نے کہا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے ٹیلی فون اور ویڈیو بات چیت کے پروگراموں پر عائد پابندی اٹھا رہے ہیں۔

پابندیاں اٹھانے کا مقصد بظاہر اس قدامت پسند بادشاہت میں سینسر شپ سے متعلق تنقید کو روکنا ہے۔

منگل کے روز سعودی حکومت کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ اور سکائپ جیسے انٹرنیٹ پروگرام اب صارفین کے لیے بڑے پیمانے پر موجود ہیں تاکہ ایک ایسے موقع پر جب سعودی بادشاہت تیل کے دور سے نکل کر جدید دور میں داخل ہونے جا رہی ہے، کاروباری افراد کا ریاست پر اعتماد بحال ہو سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے فون اور ویڈیو بات چیت کی مدد سے صارفین کے اخراجات میں کمی ہوگی۔

بیان کے مطابق ڈیجیٹل دور میں داخل ہونا سعودی معیشت کے لیے بڑا اہم ہے۔ اس سے انٹرنیٹ کی بنیادوں پر قائم معیشت کو پھلنے پھولنے کے مواقع میسر آئیں گے۔

یہ اعلان اس واقعہ کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب الجزیرہ ٹیلی وژن نے نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی حکام نے ایک قطری براڈکاسٹر کی اس بات چیت کو بلاک کر دیا تھا جو وہ سعودی عرب سے انٹرنیٹ کے ذریعے کر رہا تھا۔

سعودی عرب طویل عرصے سے الجزیرہ پر یہ إلزام لگاتا آ رہا ہے کہ وہ انتہا پسند گروپس کی آواز بنا ہوا ہے۔

الجزیرہ اس إلزام کو مسترد کرتا ہے۔

سعودی عرب کی نصف سے زیادہ آبادی کی عمریں 25 سال سے کم ہیں اور ان کا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گذرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG