رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب میں تھیٹر پر پابندی ختم، فلم ’بلیک پینتھر‘ کی نمائش


سعودی عرب میں سنیما گھروں پر 35 برس سے عائد پابندی ہٹا لی گئی ہے، جب ایک نجی تھیٹر میں ہالی ووڈ کی مشہور فلم ’بلیک پینتھر‘ کی نمائش کی گئی۔

یہ فلم بدھ کے روز دکھائی گئی جب لوگوں کو مدعو کیا گیا۔ یہ نمائش دارالحکومت ریاض کے ایک کنسرٹ ہال میں ہوئی جسے سنیما کمپلیکس میں بدلا گیا تھا۔ فلم بینوں میں خواتین اور مرد شامل تھے۔

فلم کی نمائش سے قبل، سعودی وزیر ثقافت اور اطلاعات، اواد الاواد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ ایک تاریخ ساز لمحہ ہے جب سعودی عرب میں تبدیلی آرہی ہے اور ملک متحرک معیشت اور معاشرے کی جانب گامزن ہے‘‘۔

ایسے ملک میں جہاں 1980 کی دہائی میں فلم کی نمائش پر پابندی لگائی گئی تھی، جب سعودی عرب میں قدامت پسندی کی لہر چل رہی تھی؛ یہ ہر لحاظ سے یہ ایک کایا پلٹ ہے۔

بہت سارے سعودی دینی رہنماؤں نے مغربی فلموں، یہاں تک کہ مصر اور لبنان میں بننے والی عربی زبان کی فلموں کو بھی گناہ کا کام قرار دیا تھا۔

ولی عہد محمد بن سلمان کی سربراہی میں آنے والی یہ إصلاحات ایک اور تاریخ ساز قدم ہے، جس کا مقصد ملک کو ثقافتی طور پر آزاد کرنا اور معیشت کو مختلف النوع انداز دینا ہے۔

بتیس برس کے شہزادے نے گذشتہ دو سال کے دوران پابندیوں میں نرمی کر دی ہے، جن میں عوامی کنسرٹس بھی شامل ہیں، خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی ہے اور وہ کھیلوں کی تقریبات میں شرکت کر سکتی ہیں۔

سعودی حکومت نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس میں 2030ء تک ملک بھر میں 300 سنیما گھر تعمیر ہوں گے اور 2000 اسکرین کھڑی کی جائیں گی ۔

سعودی عرب کے سنیما گھروں میں نمائش سے پہلے سرکاری سینسر سے منظوری لازم ہوگی، جیسا کہ دیگر عرب ملکوں میں مروجہ روایت ہے۔ تشدد کی منظر کشی قابل گرفت نہیں لیکن عریانیت، جنسی عمل یا بوسہ زنی کے منظر کاٹ دیے جاتے ہیں۔

یہ واضح نہیں آیا بدھ کے روز ’بلیک پینتھر‘ کی نمائش سے پہلے اسے سینسرشپ سے گزارا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG