رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب کا بیلسٹک میزائل مار گرانے کا دعویٰ


سعودی عرب کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیے جانے کی ایک تصویر جو حوثی باغیوں نے جاری کی۔ (فائل فوٹو)

سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے فائر کیے جانے والے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں جن میں سے ایک کا نشانہ سعودی حکام کے مطابق مکہ تھا۔

تاہم، ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مکہ کی جانب کوئی میزائل فائر نہیں کیا۔

حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب ملکوں کے فوجی اتحاد کے ایک ترجمان نے پیر کو اپنے بیان میں کہا کہ سعودی فضائیہ نے دونوں میزائلوں کو جدہ اور طائف کی حدود میں مار گرایا۔

بعد ازاں واشنگٹن میں واقع سعودی سفارت خانے نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ دونوں میزائلوں کو مکہ کے صوبے کی حدود میں نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل عرب نشریاتی ادارے 'العربیہ ٹی وی' نے دعویٰ کیا تھا کہ مار گرایا جانے والا ایک میزائل مکہ کی جانب پرواز کر رہا تھا۔

عالمی برادری کا الزام ہے کہ ایران حوثی باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ (فائل فوٹو)
عالمی برادری کا الزام ہے کہ ایران حوثی باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

تاہم، حوثی باغیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کا یہ الزام اپنی جنگ کے لیے عوامی حمایت سمیٹنے کا ایک حربہ ہے۔

حوثی باغیوں کے ترجمان یحیٰ ساریہ نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سعودی حکومت ان الزامات کے ذریعے یمن کے عوام کے خلاف جاری اپنی ظالمانہ جارحیت کے لیے حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

دریں اثنا، حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے علاقے نجران کے ہوائی اڈے پر کامیاب حملہ کیا ہے۔

حوثی باغیوں کے ٹی وی چینل 'المسیرۃ' نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کا نشانہ ہوائی اڈے پر موجود اسلحے کا ایک ڈپو تھا جس میں حملے کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔

حوثی باغیوں کے اس دعوے سے قبل سعودی اتحاد نے تصدیق کی تھی کہ صوبہ نجران میں ایک غیر فوجی تنصیب پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔

سعودی اتحاد کے فوجی اہلکار یمن کے ساحلی شہر حدیدہ میں ایک تنصیب کی حفاظت پر مامور ہیں۔ (فائل فوٹو)
سعودی اتحاد کے فوجی اہلکار یمن کے ساحلی شہر حدیدہ میں ایک تنصیب کی حفاظت پر مامور ہیں۔ (فائل فوٹو)

حوثی باغی اس سے قبل بھی سعودی عرب میں ڈرونز کے ذریعے حملے کرچکے ہیں جب کہ ان کی جانب سے سعودی علاقوں پر میزائل اور راکٹ حملے بھی معمول ہیں۔

سعودی حکام کا الزام ہے کہ یمن کے وسیع علاقے پر قابض ان باغیوں کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے اور انہیں میزائل، ڈرون اور راکٹ بھی ایران ہی فراہم کرتا ہے۔

حملوں کے حالیہ الزامات ایسے وقت سامنےآئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی کے باعث خطے کی صورتِ حال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی سنی عرب ملکوں نے 2015ء میں یمن کی حکومت کے خلاف حوثیوں کی بغاوت دبانے کے لیے یمن میں فوجی مداخلت کی تھی جو تاحال جاری ہے۔

فریقین کے درمیان لڑائی میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور اقوامِ متحدہ یمن کی خانہ جنگی کو دنیا کا بدترین انسانی بحران قرار دے چکی ہے۔ لیکن عرب ملکوں کی فوجی مداخلت کے باوجود حوثی تاحال دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے وسیع رقبے پر قابض ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG