رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب میں 47 افراد کو سزائے موت پر امریکہ کا اظہارِ تشویش


محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ 'ہم اپنے اس مطالبے کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت کو چاہیئے کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے اور تمام مقدمات میں منصفانہ اور شفاف عدالتی عمل کو یقینی بنائے'

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے سعودی حکومت کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ 47 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے۔

ہفتے کی شام گئے جاری ہونے والے ایک بیان میں، جان کِربی نے کہا ہے کہ 'ہم ماضی میں بھی سعودی عرب کے قانونی عمل کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں، اور سعودی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر اپنی تشویش کا بارہا اظہار کرتے رہے ہیں'۔

ترجمان نے کہا کہ 'ہم اپنے اس مطالبے کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی حکومت کو چاہیئے کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے اور تمام مقدمات میں منصفانہ اور عدالتی کارروائی کے شفاف عمل کو یقینی بنائے'۔

جان کِربی نے کہا ہے کہ 'امریکہ سعودی عرب کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اختلاف رائے کے پُرامن حق کی اجازت دی جائے اور اِن پھانسوں کے بعد ہونے والے تنائو کو کم کرنے کے لیےکمیونٹی کے رہنمائوں سے مل کر کام کیا جائے'۔

ترجمان نے کہا ہے کہ 'ہمیں خاص طور پر معروف شیعہ عالم اور سرگرم سیاسی کارکن، نمر النمر کی سزائے موت پر تشویش ہے، جس سے فرقہ وارانہ تنائو بڑھنے کا خدشہ ہے، ایسے وقت جب تنائو کو کم کرنے کی ضرورت ہے'۔

اِس ضمن میں، ترجمان نے کہا کہ، 'ہم خطے بھر کے سربراہان پر زور دیتے ہیں کہ وہ علاقے میں تنائو کے ماحول کو کم کرنے کی غرض سے کوششوں کو دوگنا کر دیں'۔

XS
SM
MD
LG