رسائی کے لنکس

logo-print

تیل کی سب سے بڑی سعودی تنصیبات پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملے


ڈرون کے ذریعے بقیق اور خریص میں تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ سعودی حکام نے نقصانات کی تفصیل جاری نہیں کی — فائل فوٹو

سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل فراہم کرنے والی کمپنی آرمکو کی دو تنصیبات پر ڈرون حملے کیے گئے۔ حملوں کے بعد دونوں تنصیبات میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس میں وہاں پر لگنے والی لگنے والی آگ پر کو کنٹرول کر لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ آرمکو سعودی عرب کی سرکاری کمپنی ہے جبکہ یہ دنیا کو تیل فراہم کرنے والی سب سے بڑی کمپنی بھی بتائی جاتی ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کے مطابق سعودی عرب کے دو الگ الگ مقامات خریص اور بقیق میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے 'سعودی پریس ایجنسی' نے وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ دونوں تنصیبات پر صبح چار بجے حملے کیے گئے تاہم حملوں کی نوعیت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

حکام نے اس بات کی بھی وضاحت نہیں کی حملے میں کس قسم کا نقصان ہوا ہے یا تنصیبات اور وہاں کام کرنے والے افراد محفوظ رہے ہیں۔

'الجزیرہ' کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں کے خبر رساں ادارے نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ سعودی عرب میں کیے گئے 'اہم حملوں' کے حوالے سے جلد تفصیلات جاری کریں گے۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بقیق میں کیے گئے ڈرون حملے کے بعد دھواں اٹھا رہا ہے جبکہ ویڈیو میں فائرنگ کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے۔

بقیق دارالحکومت ریاض سے 330 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں آرمکو کی خام تیل کی سب سے بڑی تنصیبات بتائی جاتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہاں یومیہ 70لاکھ بیرل تیل پروسیس کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ بقیق میں تیل کی تنصیبات کو پہلی بار نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ 13 سال قبل 2006 میں القاعدہ نے بھی یہاں خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔

دوسری تیل کی تنصیب خریص جسے نشانہ بنایا گیا ہے یہ سعودی دارالحکومت ریاض سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

آرمکو کے مطابق خریص میں تیل کے 20 ارب بیرل تیل کے ذخائر ہیں۔ ان ذخائر سے یومیہ 10 لاکھ بیرل تیل نکالا جاتا ہے۔

آرمکو کی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں فوری طور پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر اثر نہیں پڑا۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے شہر ابھا کے ایئر پورٹ سمیت دو تنصیبات پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

باغیوں کے ترجمان نے 'المسیرا ٹی وی' پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ابھا ایئر پورٹ اور خامس ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں مارچ 2015 سے یمن میں باغیوں کے خلاف جنگ جاری ہے دوسری جانب یمن میں باغی حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا پر بھی باغی قابض ہیں جبکہ دیگر کئی علاقوں میں حوثی اپنی عمل داری قائم کر چکے ہیں۔

یمن کی جنگ میں 2015 سے 2019 کے درمیان چار سال میں ایک اندازے کے مطابق 90 ہزار افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

جب سے جنگ کا آغاز ہوا ہے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

پہلی بار جو ڈرون ہاتھ آئے تھے یہ ایرانی ساختہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم ایران مسلسل انکار کرتا رہا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ، مغربی ممالک، مشرق وسطیٰ کے عرب ملک تہران پر مدد کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں کے مطابق یمن جنگ میں حالیہ دنوں میں حوثیوں نے جو ڈرون استعمال کیے ہیں یہ 1500 کلومیٹر تک پرواز کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی حالیہ ایک رپورٹ میں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یمن میں گذشتہ پانچ سال سے جاری لڑائی کے دوران تمام فریقوں کی جانب سے مختلف قسم کی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے جو کہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

بین الاقوامی اور علاقائی ماہرین کی جانب سے مرتب کردہ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن کی حکومت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، ایران کی پشت پناہی سے سرگرم حوثی باغی اور اس سے منسلک مسلح گروہوں کی جانب سے سنگین خلاف ورزیاں سرزد ہوئیں، جن کی پوچھ گچھ کسی نے نہیں کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG