رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی شروع کر دی


وزیر اعظم عمران خان پاکستان آمد پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے (فائل)

یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال سے سعودی عرب نے پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی شروع کر دی ہے۔ سعودی عرب پاکستان کو ہر ماہ 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کا خام تیل فراہم کرے گا۔

اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے نے پاکستان ڈیفرڈ پیمنٹ یعنی ادھار یا موخر تیل کی ادائیگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو آئندہ تین سال تک ادھار خام تیل فراہم کرے گا۔

سعودی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ تین برسوں کے دوران پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل دیا جائے گا۔

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ادھار تیل کی فراہمی کا ابتدائی معاہدہ گزشتہ سال اکتوبر میں ہوا تھا جس پر اب یکم جولائی سے عمل دآمد شروع ہو رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنھبالنے کے بعد سعودی عرب کا دورہ کیا تھا اور مشکل اقتصادی صورتحال اور کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے سعودی عرب نے پاکستان کو تین ارب ڈالر دیے تھے۔

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ادھار تیل کی ادائیگی ایک ایسے وقت پر شروع ہو رہی ہے جب پاکستان کو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سامنا ہے جس کے سبب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔

اس سہولت سے معیشت کو کیا فائدہ ہو گا؟

پاکستان کو ان دنوں اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے اور غیر ملکی ادائیگیوں، قرضوں پر سود کی ادائیگی سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ڈیفرڈ پیمنٹ کی اس سہولت سے پاکستان کی ادائیگیوں میں عدم توازن میں بہتری آئی گی۔

پاکستان کا زیادہ تر انحصار درآمد شدہ پیڑولیم مصنوعات پر ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان سالانہ تقریباً 14 ارب ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی اس سہولت کے تحت پاکستان کو سالانہ تین ارب ڈالر مالیت کا خام تیل کی ادائیگی نہیں کرنی ہو گی جس سے پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو گا اور روپے کے قدر مستحکم ہو گی۔

ڈیفرڈ پیمنٹ یا موخر ادائیگی کیا ہوتی ہے؟

کاروباری لین دین میں ڈیفرڈ پیمنٹ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خریدار کو بغیر ادائیگی کے مال مل جاتا ہے جس کی ادائیگی اسے فوری طور پر نہیں کرنی ہوتی۔ اب یہ فروخت کرنے والے کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ اپنی رقم کتنے عرصے کے بعد لینا چاہتا ہے۔

ماضی میں سعودی عرب کے علاوہ کئی دوسرے خلیجی ممالک جیسے ایران نے پاکستان کو موخر ادائیگیوں کی شرط پر خام تیل فراہم کیا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ایسے وقت میں جب پاکستان آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لے رہا موخر ادائیگیوں پر تیل کی فراہمی بہت بڑی سہولت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG