رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی خواتین کی ڈرائیونگ ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند


سعودی خواتین پہلی بار خود ڈرائیونگ کرنے پر خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔ 24 جون 2018

بلوم برگ کے مڈل ایسٹ کے لئے دبئی میں مقیم چیف اکنامسٹ زید داؤد کاکہنا ہے کہ ڈرائیونگ پر پابندی کے خاتمے سے ملازمت کرنے والی خواتین کی تعداد اور ورک فورس میں اضافہ ہو گا لیکن اس فیصلے کے مثبت اثرات کو معیشت کے مجموعی فائدے کے لئے ٹائم لگے گا۔

سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت مل گئی ہے اور یہ فیصلہ نہ صرف خواتین بلکہ ملکی معیشت کو بھی آگے لے جانے کا سبب بنے گا یہ کہنا ہے تجزیہ کاروں کا۔

سعودی خواتین کی جانب سے کار ڈرائیونگ کی شروعات ہوگئی ہے ۔اس بارے میں بلوم برگ اکنامکس کا کہنا ہے کہ سعودی خواتین کی ڈرائیونگ سے سعودی معیشت کو2030تک90بلین ڈالرز کا فائدہ ہونے کی توقع ہے۔

اگر اس کا موازنہ سعودی عرب کی تیل کمپنی آرمکو کے شیئر کے منافع سے کیا جائے تو دونوں کے اعداد و شمار قریب قریب نظر آتے ہیں۔آرمکو آئل کمپنی کے پانچ فیصد شیئرزکی مالیت تقریباً100بلین ڈالرزبنتی ہے۔

خواتین کی ڈرائیونگ سے پابندی ہٹنے کا جشن کچھ خواتین نے تو دارالحکومت ریاض کی سڑکوں پر گاڑی چلا کر جبکہ کچھ نے قافلے کی صورت میں ریاض کے نواحی علاقوں میں ڈرائیونگ کرکے منایا۔

بلوم برگ کے مڈل ایسٹ کے لئے دبئی میں مقیم چیف اکنامسٹ زید داؤد کاکہنا ہے کہ ڈرائیونگ پر پابندی کے خاتمے سے ملازمت کرنے والی خواتین کی تعداد اور ورک فورس میں اضافہ ہو گا لیکن اس فیصلے کے مثبت اثرات کو معیشت کے مجموعی فائدے کے لئے ٹائم لگے گا۔

عربین بزنس نے اس رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب کی لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرح بہت کم ہے۔صرف20فیصد خواتین معاشی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے سعودی عرب اس وقت خلیجی ممالک سے بھی پیچھے ہے جہاں یہ شرح2016میں42فیصد تھی۔

ایک فیصد اضافے کے حساب سے لیبر مارکیٹ میں70ہزار خواتین کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG