رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس ملنے شروع ہو گئے


سعودی عرب میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والی پہلی خاتون اسرا البوتی۔ 4 جون 2018

سعودی عرب نے پیر کے روز کہا ہے کہ انہوں نے دس خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کر دیے ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جن کے پاس پہلے سے امریکہ، کینیڈا، لبنان اور برطانیہ کے ڈرائیونگ لائسنس موجود ہیں۔

ان خواتین نے ایک مختصر ڈرائیونگ ٹیسٹ دیا اور ان کی آنکھوں کا معائنہ کیا گیا، جس کے بعد انہیں سعودی ڈرائیونگ لائسنس جاری کر دیے گئے۔

سعودی عرب کی دیگر خواتین 24 جون سے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ اور کئی خواتین نے صرف عورتوں کے لیے مختص کالجوں کے احاطوں میں ڈرائیونگ کے تربیتی کورسز لے رہی ہیں۔

سعودی خواتین ایک طویل عرصے سے یہ شکایت کرتی رہی ہیں کہ انہیں ڈرائیونگ کا حق حاصل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بھاری معاوضوں پر مرد ڈرائیور ملازم رکھنا پڑتے ہیں یا ٹیکسی وغیرہ استعمال کرنی پڑتی ہے۔

حکومت کے اصلاحاتی پروگرام میں جہاں خواتین کو اور کئی حقوق دیے جا رہے ہیں، وہاں گاڑی چلانے کی اجازت بھی شامل ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ 24 جون سے قبل ہی چند خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کر دیے گئے ہیں جب کہ کئی ایسی سرگرم خواتین ابھی تک حراست میں ہیں جنہوں نے عورتوں کو ڈرائیونگ کا اجازت دینے کے لیے مہم چلائی تھی۔ اور انہیں ممکنہ طور پر مقدمے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کے پراسیکیوٹر نے اتوار کے روز بتایا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں 17 افراد کو ان خدشات کی بنا پر حراست میں لیا گیا تھا کہ وہ ملک کی سلامتی اور استحكام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جس کے متعلق سرگرم کارکنوں کا کہنا تھا کہ ان گرفتاریوں میں خواتین کے حقوق کے لیے مہم چلانے والوں کو پکڑا گیا تھا۔ گرفتار کیے جانے والوں میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG