رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خواتین کو فٹ بال میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی اور سیکڑوں خواین نے مقامی ٹیموں کے درمیان ہونے والا میچ اسٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھا۔

قدامت پسند کٹڑ مذہبی نظریات رکھنے والی سعودی ریاست میں یہ اقدام اصلاح پسندی کی حالیہ لہر کا حصہ ہے جس میں خاص طور پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پیش پیش ہیں۔

روایتی سیاہ عبایہ میں ملبوس لگ بھگ تین سو خواتین نے جمعہ کو جدہ کے شاہ عبداللہ اسٹیڈیم میں الھالی اور الباطن نامی ٹیموں کے درمیان ہونے والا میچ دیکھا۔

کئی خواتین اپنے گھر کے مردوں کے ساتھ جب کہ بعض اپنی سہیلیوں کے ساتھ ٹولیوں کی صورت میں میچ دیکھنے آئیں جہاں ان کے بیٹھنے کے لیے نشستیں مخصوص تھیں۔

اس موقع پر سکیورٹی کے لیے بھی خواتین اہلکاروں کو تعینات کیا گیا جب کہ لڑکیوں کے چہروں پر ان کی پسندیدہ ٹیم کا پرچم بنانے کے لیے فیس پینٹنگ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

خواتین نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں حکومت کے اقدام کو سراہتے ہوئے مسرت کا اظہار بھی کیا۔

32 سالہ لامیا خالد ناصر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کو بتایا کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ "ہم ایک خوشحال مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہین اور میں اس بڑی تبدیلی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بہت فخر محسوس کر رہی ہوں۔"

سعودی عرب میں خواتین کے لیے انتہائی سخت قوانین رائج رہے ہیں اور اس طرح کھلے عام گھومنے کی بھی سخت ممانعت رہی ہے۔

لیکن اب نہ صرف خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی ہے بلکہ ان کے لیے علیحدہ سے سینما گھروں کے قیام کا بھی اعلان کیا جا چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG