رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب میں ہزاروں غیر قانونی کارکن گرفتار: اخباری رپورٹیں


بتایا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکی کارکنوں کی گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ اب تک صرف جدہ سے 3000سے زائد افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے

سعودی عرب کے مختلف شہروں میں منگل کو غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں غیر ملکی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان افراد کی گرفتاری کے لئے محکمہٴمحنت کے حکام نے مختلف شاپنگ سینٹرز، فیکٹریوں اور ہوٹلز پر چھاپے مارے۔

اتوار کے روز سعودی حکومت کی جانب سے اقامہ قوانین میں درستگی کے لئے دی گئی چھ ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد پیر سے گرفتاریوں کاسلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

جدہ میں مقیم سینئر صحافی شاید نعیم نے وزارت محنت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ منگل کو صرف جدہ سے 3918افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر شہروں مثلاً دمام، ریاض، الیث، ابھا اور طائف سمیت دیگر شہروں میں ہونے والی گرفتاریاں اس کے علاوہ ہیں۔

گرفتار کئے گئے افراد کا تعلق پاکستان ،بھارت، یمن، فلپائن، انڈونیشیا، مصر اور ایتھوپیا سے بتایا جارہا ہے۔

سعودی عرب میں رواں برس ملازمت کے نئے قوانین متعارف کروائے جانے کے بعد لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کو وارننگ دی گئی تھی کہ وہ یا تو تین نومبر تک اپنی ویزہ دستاویزات درست کر لیں یا پھر جیل جانے یا پھر ملک سے بے دخل ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کی مہلت کے دوران لاکھوں افراد سعودی عرب چھوڑ کر اپنے ملکوں کو واپس جا چکے ہیں، اس کے باوجود اب بھی تقریباً نوے لاکھ غیرملکی کارکن وہاں موجود ہیں۔ ان میں اکثریت غیرہنرمند مزدوروں اور گھریلو ملازمین کی ہے۔

جدہ پولیس کے ترجمان نواف البوق نے عربی اخبار ’سعودی گزٹ‘ کو بتایا کہ پیر سے شروع ہونے والی مہم تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ مہم میں سرکاری حکام غیر ملکی ورکزرز کے خلاف قانونی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

پولیس نے ویزہ ختم ہونے کے باوجود غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی تلاش میں شاپنگ مالز، مارکیٹوں اور رہائشی علاقوں میں چھاپے مارے۔

ریاض میں پکڑ دھکڑ کے دوسرے روز منگل کو بھی سڑکیں اور کاروباری مراکز ویران نظر آئے، کیونکہ غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی کارکنوں نے چھاپوں کے خوف سے گھروں تک خود کو محدود کرلیا ہے۔

چیلنج
پرائیوٹ سیکٹر میں سعودی شہریوں کی ملازمتوں کی کم شرح حکومت کے لئے ایک چیلنج ثابت ہو رہی ہے۔ غیرملکی ورکروں کی پکڑ دھکڑ کا مقصد سعودی شہریوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا اور بے روزگاری کی شرح میں کمی کرنا ہے۔

سعودی عرب کے سب سے بڑے انگریزی اخبار ’عرب نیوز‘ کے مطابق جدہ میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ورکرز نے، جن میں بڑی تعداد خواتین کی تھی ، ملک سے بے دخل کئے جانے کے خلاف دھرنا دیا۔

ادھر متعدد ممالک نے سعودی حکومت سے مہلت میں مزید تین ماہ کے اضافے کی اپیل کی تھی۔ان ممالک کا کہنا ہے کہ بہت سے غیرملکی کارکن ایسے ہیں جو فوری طور پر سعودی عرب چھوڑ کر نہیں جا سکتے، کیونکہ ان کے پاس قانونی پاسپورٹ اور دوسری ضروری دستاویزات نہیں ہیں۔ تاہم، سعودی حکومت نے یہ اپیل مسترد کردی ہے۔
XS
SM
MD
LG