رسائی کے لنکس

logo-print

’امریکہ، سعودی تعلقات اسٹریٹجک اور دیرپہ نوعیت کےحامل ہیں‘


’حکمتِ عملی کی نوع کے اختلافات کے باوجود، شام کے بارے میں سعودی عرب اور امریکہ کے مقاصد یکساں ہیں‘: سعودی وزیر خارجہ

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے اِس بات سے اتفاق کیا ہے کہ شام کےلیے کیا کچھ کیا جانا ضروری ہے، اور اُنھوں نے امریکہ سعودی عرب تعلقات کو حکمت عملی کے حامل اور پائیدار قرار دیا۔

کیری نے یہ بات پیر کے روز شہزداہ سعود اور فرمان روا شاہ عبداللہ سے ملاقات کے بعد، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کے ہمراہ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب میں کہی۔

اعلیٰ ترین امریکی سفارت کار اِس وقت سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں، ایسے میں جب دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات میں اس بات پر نمایاں اختلافات پائے جاتے ہیں آیا شام میں جاری لڑائی اور ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعےسے کس طرح سے نبرد آزما ہوا جائے۔

سعودی وزیر خارجہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکمتِ عملی کی نوعیت کے اختلافات کے باوجود، شام کے بارے میں سعودی عرب اور امریکہ کے مقاصد یکساں ہیں۔

تاہم، اُنھوں نے جان کیری کو بتایا کہ دوستوں کے درمیان تعلقات کی اصل بنیاد محض رسمی رویہ نہیں، بلکہ خلوص ِنیت، بھروسے اور کُھل کر بات کرنے میں مضمر ہوا کرتے ہیں۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری نے سعودی عرب کو عرب دنیا میں ’سینئیر پلیئر‘ قرار دیتے ہوئے اس کے کردار کی تعریف کی ہے۔ جان کیری سعودی عرب کے دورے پر ہیں جس کا مقصد شام اور ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر اختلافات کے باعث دوطرفہ سفارتی تعلقات میں پائے جانے والے تناؤ کو دور کرنا ہے۔

سعودی فرمان روا شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات سے قبل ریاض میں امریکی سفارت خانے کے عملے سے پیر کو خطاب میں مسٹر کیری نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو ’پٹڑی پر رکھنے‘ کے لیے دونوں ممالک کو اہم اُمور پر بات چیت کرنی ہے۔

اُنھوں نے امریکی موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شام میں صدر بشار الاسد کی برطرفی کے لیے سرگرم باغیوں کے حامی سعودی عرب نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی حمایت کے ساتھ ہونے والے مجوزہ امن مذاکرات کی وجہ سے دمشق میں ایران کی حمایت یافتہ حکومت برقرار رہ سکتی ہے۔

سعودی رہنما اطلاعات کے مطابق ایران سے تعلقات میں بہتری کے لیے امریکہ کے اقدامات پر بھی پریشان ہیں۔

ان تحفظات کے اظہار کے لیے سعودی عرب نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت بھی ٹھکرا دی تھی۔

مصر میں اتوار کو مختصر قیام کے دوران مسٹر کیری نے کہا کہ اوباما انتظامیہ ایران سے متعلق سنی ممالک کے تحفظات کو سمجھتی ہے اور واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اپنے ’اہم دفاعی تعلقات‘ کے سلسلے میں پرعزم ہے۔

قاہرہ میں چھ گھنٹوں پر مبنی قیام کے دوران مسٹر کیری نے مصری فوج کی حمایت یافتہ حکومت کو یقین دلایا کہ مصر کو دی جانے والی فوجی امداد کی معطلی کے باوجود واشنگٹن بدستور ایک پُرعزم ’دوست اور شراکت دار‘ ہے۔
XS
SM
MD
LG