رسائی کے لنکس

logo-print

پیرس حملے: خاتون کی جان بچانے والا 'حقیقی ہیرو'


بمباس کے دوستوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے لمحے بھر کا توقف نہیں کیا اور خاتون کو گولیو ں سے بچانے کے لیے چھلانگ لگا کر اس کے سامنے آ گیا۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے ایک ہیرو نے مبینہ طور ایک خاتون کے سامنےخود کو ڈھال بناکر گولی کھاتے ہوئے اپنی جان گنوا دی۔

اطلاعات کے مطابق ایک چالیس سالہ شخص لوڈو ویک بمباس نے ایک حقیقی ہیرو کی طرح ایک خاتون کی جان بچانے کے لیے گولیوں کی بوچھاڑ کی پرواہ نہیں کی اور خود خاتون کے سامنے ڈھال بن گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ خاتون اسپتال میں زیر علاج ہے لیکن اس کی جان بچا لی گئی ہے۔

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق جمعہ کی شب ایک ریستوران ریوڈی چیرن پر حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی اور کم از کم 19 افراد کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔

ان لوگوں میں ایک انسان دوست شخص بھی شامل تھا جس نے انسانیت کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرتے ہوئے ایک خاتون کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آگے بڑھ کر گولیاں کھائی تھیں۔

میل آن لائن اخبار کے مطابق بتایا گیا ہے کہ فرانس کے دارالحکومت 11 ڈسٹرکٹ میں واقع ریستوران پرجب دو مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کی تو بمباس وہاں ایک سالگرہ کی تقریب میں دوستوں کے ساتھ کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

لوڈوویک بمباس کے دوستوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے لمحے بھر کا توقف نہیں کیا اور خاتون کو گولیو ں سے بچانے کے لیے چھلانگ لگا کر اس کے سامنے آ گیا۔

دوستوں کی جانب سے اس بہادر دوست کو ہیرو کہا گیا ہے اور اس کی بے لوث جانبازی کو سلام پیش کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کانگو سے تعلق رکھنے والا بمباس فیڈ ایکس کمپنی کا ملازم تھا وہ فرانس کے شمالی شہر للی میں پلا بڑھا۔

دوستوں کے بقول اسے سیاحت کا شوق تھا وہ دنیا کی سیر کرنا چاہتا تھا وہ لوگوں سے محبت کرتا تھا اور وہ دنیا کے "اچھے بہت اچھے لوگوں میں سے ایک تھا۔"

بمباس اس وقت 35 سالہ ویٹریس ہدیٰ سعدی کی سالگرہ کی تقریب میں شریک تھا جس میں ہدیٰ سعدی اور ان کی 36 سالہ بہن حلیمہ دونوں ہلاک ہو گئی تھیں۔

حلیمہ سعدی کا تعلق تیونس سے تھا وہ دو چھوٹے بچوں کی ماں تھی۔

XS
SM
MD
LG