رسائی کے لنکس

شریف خاندان کے خلاف نیب کی کارروائی، اعجاز الاحسن نگران جج مقرر


مریم نواز اپنے بھائیوں حسن اور حسین نواز کے ہمراہ (فائل فوٹو)

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پاناما پیپر معاملے کے عدالتی فیصلے کی روشنی میں شریف خاندان کے احتساب بیورو کو دیے گئے حکم پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے جسٹس اعجاز الاحسن کو مقرر کیا ہے۔

سپریم کورٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ چونکہ جسٹس اعجاز الاحسن فی الوقت بیرون ملک ہیں لہذا ان کی جگہ جسٹس اعجاز افضل خان اس معاملے کو دیکھیں گے۔ یہ دونوں جج صاحبان پاناما پیپرز معاملے کا گزشتہ ہفتے فیصلہ سنانے والے پانچ رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔

بینچ نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے نااہل قرار دینے کے علاوہ قومی احتساب بیورو کو شریف خاندان اور سابق وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف چھ ہفتوں میں ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید برآں ان ریفرنسز پر چھ ماہ میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس عمل کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کا ایک جج مقرر کرنے کا بھی کہا گیا تھا۔

رواں ہفتے ہی احتساب بیورو نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں راولپنڈی/ اسلام آباد کی احتساب عدالتوں میں چار ریفرنسز دائر کیے جائیں گے۔

ادارے کے اعلامیے کے مطابق ان میں شریف خاندان کے لندن میں واقع فلیٹس اور سعودی عرب میں ان کی دو اسٹیل ملز کے ریفرنسز کے علاوہ اسحٰق ڈار کے خلاف ان کی آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کی تحقیقات کی جائیں گی۔

یہ ریفرنسز سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد محمد صفدر کے خلاف دائر کیے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG