رسائی کے لنکس

نااہلی کے باوجود نواز شریف کی پارٹی پر گرفت مضبوط


حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وزیراعظم کوئی بھی ہوا، فیصلے "کوئی اور" ہی کرے گا۔

پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت اور اس وقت قومی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے لیکن کبھی بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔

لیکن اس مرتبہ بھی عدالت عظمٰی سے نا اہلی کے باوجود بظاہر اب تک اُن کی اپنی جماعت پر گرفت مضبوط ہے۔

پاناما لیکس سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران بعض سیاسی قائدین کی طرف سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اگر فیصلہ نواز شریف کے خلاف آیا تو اُن کی جماعت کے بعض اراکین مسلم لیگ (ن) کو خیرباد کہہ دیں گے۔

لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ گزشتہ ہفتے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نواز شریف نے جب اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ اور عبوری مدت کے لیے اس منصب کے لیے شاہد خاقان عباسی کے نام پیش کیے تو اُنھیں فوراً ہی منظور کر لیا گیا۔

حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وزیراعظم کوئی بھی ہوا، فیصلے "کوئی اور" ہی کرے گا۔

نواز شریف کا سیاسی سفر

نوازشریف کا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے ہے اور اُنھوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 70 کی دہائی کے اواخر میں کیا تھا۔

ملک کے سابق فوجی صدر ضیا الحق کی طرف سے نافذ مارشل لا کے دور میں نواز شریف 1985ء میں غیر جماعتی بنیاد پر ہونے والے انتخابات کے بعد آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔

تب ہی سے اُن کی سیاست کا مرکز صوبہ پنجاب، خاص طور پر لاہور رہا ہے۔

نواز شریف پہلی مرتبہ 1990ء میں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے لیکن 1993ء میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان کی حکومت ختم کر دی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف میاں صاحب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت عظمٰی نے اُن کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ان کی حکومت کو بحال کردیا تھا۔

لیکن اس فیصلے کے بعد صدر کے ساتھ جاری مسلسل محاذ آرائی کے بعد اس وقت کے آرمی چیف کی مداخلت پر وزیرِاعظم اور صدر دونوں ہی کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

سنہ 1997 میں ہونے والے انتخابات میں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملی تھی اور وہ دوسری مرتبہ بطور وزیراعظم منتخب ہوئے۔

لیکن 1999ء میں اُس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کر دی تھی۔

فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ کیس اور دہشت گردی کے مقدمات درج کر کے اُنھیں عمر قید اور جائیدار کی ضبطی کی سزا سنائی گئی تھی۔

بعد ازاں وہ حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب جلا وطن ہوگئے تھے، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے بہت سے سرکردہ راہنماؤں نے مسلم لیگ (ق) کے نام سے ایک پارٹی بنالی تھی جو پرویز مشرف کے دور میں برسراقتدار بھی رہی۔

لیکن نواز شریف کی 2007ء میں وطن واپسی کے بعد اُن کی جماعت ایک مرتبہ پھر اکٹھی ہوئی اور 2008ء میں صوبہ پنجاب میں اُن کی حکومت بنی۔ جب کہ 2013ء میں پنجاب کے علاوہ مرکز میں بھی مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی اور نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے۔

اس مرتبہ اُنھیں حزبِ مخالف کی جماعت تحریک انصاف کی طرف سے مسلسل احتجاج اور الزامات کا سامنا رہا۔ سنہ 2016 میں پاناما پیپرز میں اُن کے بچوں کے نام بیرون ملک موجود ’آف شور کمپنیوں‘ سے متعلق انکشافات کے بعد تحریک انصاف نے نواز شریف کے خلاف ایک بھرپور تحریک چلائی۔

حزب مخالف کی جماعتیں پاناما لیکس کے معاملے کو عدالت عظمٰی لے گئی تھیں جس نے 28 جولائی 2017ء کو نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔

اگرچہ عدالت کے فیصلے کے بعد نواز شریف نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب تو فوری طور پر چھوڑ دیا ہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے پر اُن کی جماعت کی طرف سے مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے عوام کے سامنے جانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن تاحال اُنھوں نے اس حوالے سے کوئی مہم شروع نہیں کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG