رسائی کے لنکس

logo-print

'آرمی چیف کے عہدے کی مدت کو ریگولیٹ کیے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا'


آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو عارضی طور پر مد ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع دی گئی ہے — فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو قانونی حمایت حاصل نہیں۔

چیف جسٹس، جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ “ آپ جس قدر بھی طاقت ور کیوں نہ ہوں قانون آپ سے بالاتر ہے”۔ آرمی چیف کے آئینی عہدے کی مدت کو ریگولیٹ کیے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی میں استحکام لانا منتخب نمائندوں کا کام ہے۔ “پارلیمان کو یاد رکھنا چاہیے قومیں اداروں کو مضبوط کرنے سے ہی ترقی کرتی ہیں۔”

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب چوہدری فیصل حسین کہتے ہیں کہ اس فیصے میں بہت سی چیزیں سوال طلب ہیں۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ کوئی قانون نہیں جس میں مدت کا تعین ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو تین سال کی مدت کہاں سے آئی ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اکرام چوہدری کہتے ہیں کہ اس فیصلے کے خلاف حکومت کے لیے نظرثانی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ پارلیمان آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا تعین کرے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو قانونی حمایت حاصل نہیں۔ قانون اور آئین میں مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

43 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا جب کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دو صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ تحریر کیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اب معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے۔ پارلیمان آرمی چیف کے عہدے کی مدت کا تعین کرے۔ منتخب نمائندے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی کریں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ یاد رکھیں کہ ادارے مضبوط ہوں گے تو قوم ترقی کرے گی۔ کیس کا بنیادی سوال قانون کی بالادستی کا تھا۔ یہ معاملہ پاکستان کے منتخب نمائندوں کی طرف ہے۔

فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے یقین دلایا کہ آرمی چیف کے تقرر کے عمل کو قانونی شکل دی جائے گی اور وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی تقرری کی قانون سازی کے لئے 6 ماہ مانگے ہیں۔ وفاقی حکومت آرمی چیف کی سروس سے متعلق قواعد و ضوابط طے کرے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی حکم دیا ہے کہ وفاقی حکومت ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت آرٹیکل 243 کے دائرہ کار کا تعین کرے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف نئی تقرری 6 ماہ کے لئے ہو گی اور ان کی موجودہ تقرری بھی مجوزہ قانون سازی سے مشروط ہو گی۔ قانون نہ ہونے سے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت پر غیر یقینی دور کرنے کے لیے ایسی پریکٹس کی جا سکتی ہے۔ اگر پارلیمان آئندہ چھ ماہ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی سے متعلق قانون سازی نہ کر سکی تو چھ ماہ بعد جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائرڈ تصور ہوں گے۔ نئی قانون سازی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت کا تعین کرے گی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جنرل کی مدت ملازمت اور ریٹائرمنٹ قانون میں متعین نہیں۔ اداروں کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

حکومت نے آرمی ریگولیشن کی سیکشن 255 میں راتوں رات ترمیم کی۔ سیکشن 255 آرمی چیف سے متعلق نہ ہونے پر اس میں لفظ توسیع شامل کرنا بے سود رہا۔ 21 اگست کو آرمی چیف کی توسیع کو کابینہ کے دستیاب ارکان کی منظوری تصور کیا گیا۔ توسیع کو کابینہ کی منظور تصور کرتے ہوئے بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ قانون سازی نہ ہوئی تو جنرل باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر 2016 سے شمار ہو گی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی کے لئے لفظ “قانون کے مطابق” کا استعمال نہیں ہوا۔ اٹارنی جنرل کے مطابق کسی ریٹائرڈ جنرل کو بھی آرمی چیف تعینات کیا جا سکتا ہے۔ آرمی چیف کی تعیناتی کے لئے آرٹیکل 243 کی ذیلی دفعہ 3 کو الگ سے نہیں پڑھا جا سکتا۔ قانون میں آرمی جنرل کی ریٹائرمنٹ کے لئے کوئی عمر نہیں۔ اٹارنی جنرل کے مطابق ادارہ جاتی روایت کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت تین سال ہے۔ ادارہ جاتی روایت کو قانون کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فیصلے میں آرمی ایکٹ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ زیادہ تر کورٹ مارشلز اور سزا و جزا سے متعلق ہے۔ صرف تین ابواب میں ملازمت سے متعلق امور پر بات کی گئی ہے۔ اس میں باقی افسران تو شامل ہیں لیکن آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق آرمی ایکٹ میں کچھ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 18 آئینی عہدوں پر تعیناتی اور ان کی مدت ملازمت سے متعلق تفصیل بھی شامل کر دی ہے لیکن اس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس سٹاف اور سروسز چیفس کی مدت ملازمت شامل نہیں ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلے کے آخر میں اضافی نوٹ میں 1616 میں چیف جسٹس آف انگلینڈ کے فیصلے کا ریفرنس دیتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی ملازمت کے قواعد بنانے سے بہت سی تاریخی غلطیوں کو درست کیا جا سکتا ہے۔ قواعد بنانے سے عوام کے منتخب نمائندوں کا اقتدار اعلیٰ مضبوط ہو گا۔ چیف جسٹس نے اضافے نوٹ میں کہا ہے کہ آپ جس قدر بھی طاقت ور کیوں نہ ہوں قانون آپ سے بالاتر ہے۔ آرمی چیف کے آئینی عہدے کی مدت کو ریگولیٹ کیے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مخصوص تاریخی تناظر میں آرمی چیف کا عہدہ کسی بھی عہدے سے زیادہ طاقت ور ہے۔ آرمی چیف کا عہدہ لامحدود اختیار اور حیثیت کا حامل ہوتا ہے اس لیے غیر متعین صوابدید خطرناک ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ آرٹیکل 243 مدت کے حوالے سے خاموش ہے، میرے خیال میں درست نہیں ہے۔ پاکستان کی آئینی تاریخ کے ارتقا کو پڑھا جائے تو ہمیشہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کو کھلا چھوڑا گیا۔ 18 ویں ترمیم میں بھی اس کو کھلا رکھا گیا۔ 243 کو پڑھا جائے تو اس میں لکھا ہے کہ وزیراعظم جو چیف ایگزیگٹو ہیں، اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آرمی چیف کی مدت کتنی ہو۔ یہ سول سپرمیسی کا اظہار ہے۔ 1956 اور 1962 کے آئین میں بھی مدت ملازمت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ آرمی ایگزیگیٹو کے تابع ادارہ ہے۔ آرمی ایک طاقت ور ادارہ ہے لیکن ایگزیگٹو کے ماتحت ہے اور سول سپرمیسی کے لیے اس کی کمانڈر کی مدت ملازمت کے معاملہ کو کھلا رکھا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جا سکتی ہے لیکن اس حوالے سے حکومت اور آرمی نے فیصلہ کرنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے سوالات کا جواب تفصیلی فیصلے میں بھی نہیں دیا گیا، لہذا میری نظر میں یہ قابل نظرثانی فیصلہ ہے۔ اگر کوئی قانون سازی کرنی ہے تو بھی حکومت کا فیصلہ ہے۔ نئی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، پہلے سے موجود قانون میں ذیلی ترمیم کرنی ہے۔

لیکن سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اکرام چوہدری اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت نظرثانی میں نہیں جا سکتی اور اگر گئی تو بھی ان کے مقاصد حاصل ہونے کا امکان نہیں۔ اس فیصلے کے خلاف حکومت کے لیے نظرثانی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ عدالت میں اٹارنی جنرل اور وزیر قانون چیف جسٹس سے چھ ماہ کی مہلت خود لے کر آئے ہیں اور عدالت میں انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ کوئی قانون آرمی چیف کی مدت ملازمت، دوبارہ تعیناتی اور ان کی مراعات کے حوالے سے موجود نہیں ہے۔

تفصیلی فیصلہ بھی پہلے دیے گئے شارٹ آرڈر کی تفصیل ہی ہے۔ تفصیلی آرڈر میں کہا گیا ہے کہ اگر چھ ماہ میں قانون سازی نہ ہوئی تو صدر نئے آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور خاص ضابطہ نکالا جسے میں نظریہ ضرورت کی شاخ قرار دیتا ہوں کہ انہوں نے چھ ماہ کا وقت دیا ہے۔

اکرام چوہدری کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ حکومت کی قانونی ٹیم کی ناقص کارکردگی اور سپریم کورٹ کی طرف سے کچھ گنجائش عطا کیے جانے کا نتیجہ ہے۔ جو معروضی حالات ہیں ان میں حکومتی زعما قانون سازی میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہے۔

اکرام چوہدری کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق آپ خزانہ سے ایک پینی نہیں نکال سکتے۔ لیکن آرمی چیف کے معاملہ میں گذشتہ 72 سال سے بغیر کسی قانون کے یہ مراعات دی جا رہی تھیں۔ حکومت کے خزانہ سے ایک پیسہ بھی لینے کے لیے اس کی قانونی حیثیت کا تعین ہونا ضروری ہے۔ اس فیصلے کے آنے سے کسی قانون کے بغیر آج تک جنرل صاحبان پاکستان کے خزانہ سے مراعات اور تنخواہیں لیتے رہے اور اس کا کوئی قانونی جواز نہ تھا، لیکن اب یہ قانون کے دائرہ میں آ جائے گا۔ یہ رول آف لا کی طرف ایک قدم ہے، لیکن ایسی منزل دور ہے جہاں قانون کی مکمل حکمرانی ہو گی اور کسی کے لیے بھی قانون سے انحراف کرنا ممکن نہ ہو گا۔

سپریم کورٹ نے نومبر میں آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق ایک پٹیشن پر اس کیس کی سماعت کی تھی۔ اگرچہ اس پٹیشن کے درخواست گزار نے یہ درخواست واپس لے لی لیکن چیف جسٹس نے اس حوالے سے سماعت جاری رکھی اور اس دوران حکومت کی طرف سے پیش کردہ تمام دستاویزات کے مطابق حکومت آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متلعق کوئی مستند دستاویز پیش نہ کر سکی، جس پر عدالت نے حکومت کو 6 ماہ کا وقت دیا اور کہا کہ قانون سازی کر کے اس معاملے سے متعلق قواعد تشکیل دیے جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG