رسائی کے لنکس

ججوں کے حلف نامے میں 'صادق و امین' کے الفاظ شامل کرنے کا مطالبہ


فائل فوٹو

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ اور عدالتِ عالیہ کے ججوں اور مسلح افواج کے جرنیلوں کے حلف ناموں میں میں صادق اور امین کا لفظ موجود نہیں جو آئین کی "خلاف ورزی" ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو آئین کی شق 62 کے تحت نا اہل قرار دینے کے بعد آئین کی شقوں 62 اور 63 پر سیاسی و سماجی حلقوں میں خوب بحث جاری ہے۔

حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ان شقوں میں ترمیم لانے کا ارادہ رکھتی ہے جن کے تحت اراکینِ اسمبلی کے لیے ضروری ہے کہ وہ "صادق اور امین" ہوں۔

تاہم اپوزیشن کی مختلف جماعتیں آئین کی ان شقوں میں مجوزہ ترمیم کی مخالفت کا عندیہ دے چکی ہیں۔

اسی بحث کے دوران 'جمہوری وطن پارٹی' نامی ایک جماعت کے سربراہ بیرسٹر ظفر اللہ نے عدالت عظمیٰ کی لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی ہے جس میں فوج کے جرنیلوں اور اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے حلف ناموں میں بھی "صادق و امین" کے الفاظ کا اضافہ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ اور عدالتِ عالیہ کے ججوں اور مسلح افواج کے جرنیلوں کے حلف ناموں میں میں صادق اور امین کا لفظ موجود نہیں جو کہ آئین کی شق 62، 63 کی "خلاف ورزی" ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارلیمان ایک مقتدر ادارہ ہے اور قانون کے تحت جج اور جرنیل اپنی آمدن اور اخراجات کے اعداد و شمار پارلیمنٹ کی احتساب کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے پابند ہیں۔

تاحال اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG