رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ نے حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی


سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ حکومت اور ادارے قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔ اس ضمن میں عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا حکمِ امتناع بھی خارج کر دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے 23 جون کو اپنے ایک حکم نامے میں وفاقی حکومت کو شوگر کمیشن رپورٹ کی روشنی میں شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی سے روک دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے منگل کو اس پر سماعت کے دوران اپنے ایک حکم میں کہا ہے کہ حکومت اور ادارے قانون کے مطابق شوگر ملز کے خلاف کارروائی کریں لیکن شوگر ملز مالکان کے خلاف غیر ضروری اقدامات نہ کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین ہفتے میں شوگر ملز کی درخواستوں پر فیصلہ کریں۔

عدالت نے شوگر کمیشن رپورٹ پر حکومتی عہدیداروں کو بھی بیان بازی سے روک دیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران شوگر ملز مالکان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتی وزرا بیان بازی کر کے میڈیا ٹرائل کرتے ہیں جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ بیان بازی سیاسی معاملہ ہے جس پر زیادہ مداخلت نہیں کر سکتے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شوگر ملز کی تحقیقات کے معاملے پر بنایا گیا یہ پہلا کمیشن ہے جس میں دو وزرائے اعلی پیش ہوئے اور وزیرِ اعظم کے قریب ترین ساتھی کو بھی کمیشن میں پیش ہونا پڑا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ شفاف کام ہونا چاہیے تاکہ ملوث افراد کیفرِ کردار تک پہنچ سکیں۔ تکنیکی معاملات میں عوام کا مفاد پیچھے نہیں رہنے دیں گے۔

چینی بحران کیا تھا؟

پاکستان میں رواں برس جنوری میں اچانک گندم اور چینی کا بحران پیدا ہو گیا تھا لیکن حکومت کا دعویٰ تھا کہ ملک بھر میں گندم اور چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔

اس تمام صورت حال کے بعد ملک بھر میں آٹا 45 روپے فی کلو سے ایک دم 70 روپے فی کلو تک پہنچ گیا اور چینی بھی مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گئی۔ مارکیٹ میں 52 روپے فی کلو میں ملنے والی چینی کی قیمت 75 سے 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

اس تمام بحران میں وزیرِ اعظم کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین اور بعض حکومتی شخصیات پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے جس پر وزیرِ اعظم عمران خان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

ایف آئی اے کی چھ رکنی ٹیم نے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں اس تمام معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے چینی بحران کے ذمے داروں کو سزا دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سفارش پر انکوائری کمیشن قائم کیا۔

یہ کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا گیا اور یہ پہلے ہی اپنا کام شروع کر چکا تھا۔

انکوائری کمیشن کی نو ٹیموں نے بحران سے فائدہ اٹھانے والی شوگر ملز کا فرانزک آڈٹ کیا جس میں جہانگیر ترین کی شوگر ملز بھی شامل تھی۔

کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ حکومت کو ارسال کی جس کے بعد 21 مئی کو وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز اور وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خد و خال کے بارے میں بتایا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں جہانگیر ترین کے علاوہ اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف کو بھی چینی بحران میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

انکوائری کمیشن کی رپورٹ کیا تھی؟

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے 21 مئی کو پریس کانفرنس کے دوران جہانگیر ترین سمیت مختلف سیاست دانوں کے ملوث ہونے سے متعلق بتایا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ شوگر ملز نے کسانوں سے سپورٹ پرائس سے کم دام پر اور بغیر تصدیق شدہ پرچیوں پر گنا خریدا۔ کسانوں کے ساتھ مل مالکان نان آفیشل بینکنگ بھی کرتے رہے۔

ان کے بقول شوگر ملز نے 2017 اور 2018 میں چینی کی 13 روپے زیادہ قیمت مقرر کی۔ 2017 اور 2018 میں ملز مالکان نے 51 روپے چینی کی لاگت بتائی حالاں کہ کمیشن نے تعین کیا کہ یہ لاگت 38 روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی کی بے نامی فروخت بھی دکھا کر ٹیکس چوری کی گئی۔ شوگر ملز نے غیر قانونی طور پر کرشنگ یونٹس میں اضافہ کیا۔ چینی کی قیمت میں ایک روپے اضافہ کر کے پانچ ارب 20 کروڑ روپے منافع کمایا گیا۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 25 فی صد گنا رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ جس سے اس پر ٹیکس بھی نہیں دیا جاتا۔ پانچ برس میں 88 شوگر ملز کو 29 ارب کی سبسڈی دی گئی۔ ان شوگر ملز نے 22 ارب روپے کا انکم ٹیکس دیا اور 12 ارب کے انکم ٹیکس ریفنڈز واپس لیے یوں صرف 10 ارب روپے انکم ٹیکس دیا گیا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو سبسڈی دے کر فائدہ پہنچایا۔ شہباز شریف فیملی کی شوگر ملز میں ڈبل رپورٹنگ کے شواہد ملے ہیں۔ جے ڈی ڈبلیو گروپ کی شوگر ملز کارپوریٹ فراڈ میں ملوث نکلی ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ کی شوگر ملز اوورانوائسنگ اور ڈبل بلنگ میں ملوث ہیں۔

شوگر مل مالکان اسلام آباد ہائی کورٹ میں

سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ سے قبل شوگر ملز مالکان اسلام آباد ہائی کورٹ بھی پہنچے تھے جہاں 20 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری رپورٹ پر جاری کردہ حکم امتناع ختم کرتے ہوئے حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت دی تھی۔

عدالت نے حکم دیا کہ ایسی بیان بازی نہ کی جائے جس سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہو۔

شوگر ملز مالکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں حکومت کی طرف سے چینی بحران سے متعلق کمیشن کی انکوائری رپورٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

شوگر ملز مالکان نے الزام عائد کیا تھا کہ کمیشن نے متعصبانہ کارروائی کرتے ہوئے شوگر ملز مالکان کو مافیا قرار دیا ہے لہذا اس رپورٹ پر کارروائی کو روکا جائے۔

گیارہ جون کو عدالت نے اس حوالے سے مشروط حکم امتناع جاری کیا تھا اور شوگر ملز مالکان کو کہا تھا کہ وہ آئندہ تاریخ تک چینی 70 روپے کلو فروخت کریں۔ لیکن اس عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور چینی بدستور 85 روپے کلو فروخت کی جاتی رہی۔

چینی کتنے روپے میں فروخت ہو رہی ہے؟

پاکستان میں دسمبر 2018 میں چینی کی ایکس مل پرائس فی کلو 51.64 روپے تھی جو جولائی 2019 میں 65.73 پر پہنچ گئی تھی۔ چینی کی فی کلو خریداری پر 14.09 روپے کا یہ اضافہ چھ ماہ کے دوران ہوا۔

پاکستان کی ماہانہ چینی کی کھپت 433 ملین کلو گرام ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شوگر مل مالکان نے دسمبر 2018 کے مقابلے میں جولائی 2019 میں 6.1 ارب روپے زائد کمائے۔

ایکس فیکٹری ریٹ میں اضافے کے بعد مارکیٹ میں فروخت ہونے والی 55 روپے کلو چینی 72 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

اکتوبر 2019 میں چینی کی ایکس مل پرائس 68.30 فی کلو تک پہنچی اور شوگر مل مالکان نے 7.2 ارب روپے کمائے۔

جنوری 2020 میں چینی کی ایکس مل قیمت 69.14 اور مارکیٹ میں 75 روپے فی کلو تک پہنچی اور فروری میں اس میں مزید اضافہ ہوا اور ایکس مل قیمت 71.56 ہو کر مارکیٹ میں فی کلو چینی 80 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

رواں برس کرشنگ سیزن کے دوران گنے کی قیمت پنجاب میں 217 روپے فی من اور سندھ میں 226 روپے فی من رہی تھی۔ لیکن چینی کی قیمت اس وقت مارکیٹ میں 85 روپے کلو پہنچی ہوئی ہے اور اس کی وجہ بعض اسٹاکسٹ کی طرف سے گوداموں میں چینی جمع کرنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی معاملات عدالتوں میں ہیں لیکن اگر عدالتوں کی طرف سے دباؤ آیا تو شوگر مل مالکان چینی کی پیداوار روک کر اپنے اسٹاکسٹ کے ذریعے چینی کی قیمت 100 روپے سے زائد بھی کر سکتے ہیں۔

حکومت نے کمیشن کے ذریعے شوگر مل مالکان کا ایف آئی اے کے ذریعے فرانزک آڈٹ کرانے اور ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے لیکن اب تک عملی طور پر کسی بھی مل کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG