رسائی کے لنکس

logo-print

الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ معطل، قاسم سوری ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر بحال


قاسم خان سوری (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی قاسم خان سوری کے حلقۂ انتخاب این اے 265 کوئٹہ (2) سے کامیابی کو کالعدم قرار دینے کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو معطل کردیا اور اُنہیں دوبارہ ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں پیر کو سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی انتخابی ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل پر تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

دوران سماعت بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ٹربیونل کے نتائج کا فرق درست نہیں۔

قاسم سوری کی طرف سے اُن کے وکیل نعیم بخاری عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ غیر معیاری سیاہی کا ذمہ دار اُن کا مؤکل کیسے ہو سکتا ہے؟

نعیم بخاری نے کہا کہ نادرا رپورٹ کے مطابق غلط شناختی کارڈ 1533، نامکمل شناختی کارڈ 359، ڈپلیکیٹ شناختی کارڈ 123، بغیر انگھوٹھوں کے نشان کے کاؤنٹر فائل 183 جبکہ حلقے میں 100 غیر رجسٹرڈ شدہ ووٹ کاسٹ ہوئے۔

اُن کے بقول، مذکورہ تمام ووٹوں کو جمع کریں تو یہ کُل تین ہزار 198 ووٹ بنتے ہیں جب کہ قاسم سوری پانچ ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے۔

نعیم بخاری نے دلائل کے دوران کہا کہ اُن کے مؤکل نے 25973 اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار نے 20089 ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ نادرا نے غیر معیاری سیاہی ہونے کی وجہ سے 52 ہزار ووٹ مسترد کیے۔

عدالت نے قاسم سوری کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے انتخابی ٹربیونل کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا اور حکم دیا کہ اپیل کے فیصلے تک حلقے میں ضمنی انتخاب نا کرایا جائے۔

عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کر دیا ہے جس کے بعد اپیل کا فیصلہ ہونے تک قاسم سوری قومی اسمبلی کے رکن اور ڈپٹی اسپیکر رہیں گے۔

اُن کے بقول، یہ بلوچستان کے لیے فخر کی بات ہے کہ ان کا نمائندہ قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر ہے۔

یاد رہے کہ عام انتخابات میں قاسم خان سوری کی کامیابی کو بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے امیدوار نوابزادہ میر لشکری رئیسانی نے الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیا تھا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عبداللہ بلوچ پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے 27 ستمبر کو انتخابی عذرداری سے متعلق درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے قاسم سوری کی کامیابی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

الیکشن ٹربیونل نے حلقے کے ووٹوں کی نادرا کے ذریعے تصدیق کرائی تھی۔ جس کی رپورٹ کی روشنی میں 52 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ آنے کے بعد درخواست گزار لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ فتح سچ کی ہوئی۔ مگر افسوس ہے کہ گزشتہ ایک سال سے اب تک ایک نااہل شخص قومی اسمبلی کا ایوان چلاتا رہا۔

قاسم سوری کو سپریم کورٹ سے ریلیف ملنے کے بعد وہ دوبارہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ سنبھالیں گے۔

الیکشن کمیشن نے اس سے قبل الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کی روشنی میں ان کی کامیابی کا نوٹی فکیشن بھی منسوخ کردیا تھا۔ جسے اب سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بحال کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG