رسائی کے لنکس

logo-print

حزب اختلاف کا اسپیکر قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ


اسد قیصر گزشتہ برس انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے تھے — فائل فوٹو

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے گرفتار رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی کو جانب دار قرار دیتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرِ صدارت شروع ہوا تو حزبِ اختلاف کے اراکین نے گزشتہ روز گرفتار ہونے والے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ اور دیگر گرفتار اپوزیشن اراکین کو اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن اراکین نے اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔

پروڈکشن آرڈرز کے معاملے پر احتجاج شروع ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے اراکین ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے، جبکہ اسپیکر ڈائس کے سامنے دھکم پیل ہوتی رہی۔ اپوزیشن اراکین اسپیکر قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے رہے۔

اس موقع پر قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ اگر گرفتار اراکین کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ ہوئے تو وہ اس معاملے کو عدالت لے کر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج کا احتجاج علامتی ہے، لیکن یہ کوئی اور صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔

ایوان میں اپوزیشن اراکین کے احتجاج پر ردِّ عمل دیتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ حزبِ اختلاف کے اراکین نے کالی پٹی باندھی تو میں سمجھا کہ یہ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں، لیکن یہ تو اپنی قیادت کا رونا رو رہے ہیں۔

مراد سعید نے کہا کہ نیب کا ادارہ آزاد ہے اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ہی اس کے چیئرمین کا انتخاب کیا تھا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل اپوزیشن رہنماؤں نے گرفتار اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی کیمپ بھی لگایا تھا۔

اس وقت اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت سمیت ایک درجن کے قریب رہنما مختلف مقدمات میں گرفتار ہیں، جن میں دو سابق وزرائے اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے صدرِ پاکستان عارف علوی کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران بھی حزبِ اختلاف نے پروڈکشنن آرڈرز کے معاملے پر احتجاج کیا تھا۔

’حکومت مراد علی شاہ سمیت جس کو گرفتار کرنا چاہتی ہے، کرلے‘

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی جمعرات کو پیشی تھی۔

آصف زرداری کی پیشی کے وقت ہی نیب نے گزشتہ روز گرفتار ہونے والے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو بھی عدالت میں پیش کیا اور انہیں سکھر لے جانے کے لیے راہداری ریمانڈ دیا گیا۔

آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت منی لانڈرنگ کیس کے دیگر ملزمان پر جب عدالت نے فردِ جرم عائد کرنے کا حکم سنایا تو سابق صدر روسٹرم پر آگئے اور احتساب عدالت کے جج محمّد بشیر سے مکالمے میں کہا کہ ان کے خلاف ریفرنسز تو چل رہے ہیں، لیکن وکلا سے بات کرنے کا وقت نہیں دیا جا رہا۔

اس کے جواب میں جج محمّد بشیر نے کہا کہ آپ جب تک چاہیں اپنے وکلا سے مشاورت کر سکتے ہیں۔

آصف علی زرداری کمرہ عدالت سے باہر نکلے اور ایک برابر والے عدالتی کمرے میں براجمان ہو گئے جہاں پارٹی رہنماؤں، اراکینِ اسمبلی اور سندھ حکومت کے وزراء کا تانتا بندھ گیا۔

آصف زرداری کے ساتھ ان کی ہمشیرہ فوزیہ بھی بیٹھی ہوئی تھیں جو پہلی بار کسی عوامی محفل میں دکھائی دیں،۔ جب کہ فریال تالپور، ڈاکٹر عذرا فضل اور آصفہ بھٹّو بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

آصف زرداری نے کمرہ عدالت میں موجود چند صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے سوالات کے جواب بھی دیے۔

پارٹی رہنماؤں کی گرفتاری پر سابق صدر نے کہا کہ حکومت سب کو گرفتار کر کے اپنا شوق پورا کر لے۔ مراد علی شاہ سمیت جس کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں، کر لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں پروڈکشن آرڈرز کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

'مولانا کے دھرنے میں شرکت کا فیصلہ بلاول نے کرنا ہے'

ایک صحافی نے آصف زرداری سے سوال کیا کہ آپ نہیں سمجھتے کہ دھرنے میں پیپلز پارٹی کو مولانا فضل الرّحمٰن کا ساتھ دینا چاہیے، جس کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ میں تو جیل میں ہوں، دھرنے میں شرکت کا فیصلہ بلاول بھٹّو کریں گے۔

اپنی ضمانت سے متعلق سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ ضمانت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم سکون سے بیٹھے ہیں، حکومت کو اپنا شوق پورا کرنے دیں۔

’وائس آف امریکہ‘ نے آصف زرداری سے سوال کیا کہ کیا اڈیالہ جیل کا موسم تنگ تو نہیں کر رہا؟ جس پر آصف زرداری نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آج کل بارشیں ہو رہی ہیں اور راولپنڈی کا موسم بدل رہا ہے۔

آصف زرداری کے اس ذو معنی جواب پر کمرہ عدالت میں قہقہہ بلند ہوا اور موجود رہنماؤں نے آصف زرداری کے اس جملے کو راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر میں حکومت کی حمایت کم ہونے کے سیاسی تبصرے کے طور پر لیا۔

سابق صدر سے سوال کیا گیا کہ آرمی چیف کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کی واپسی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ توسیع واپس کون کرے گا؟

این آر او کے سوال کے جواب میں آصف زرداری سے پہلے ہی ان کی بیٹی آصفہ بھٹو بول پڑیں اور کہا کہ زرداری صاحب، بلاول اور وہ خود کئی بار یہ بات کر چکے ہیں کہ موجودہ حکومت سے کوئی این آر او نہیں مانگ رہا۔

ان کے بقول، حکومت کے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں ہے۔

’یہ لکھتے ہیں لیکن شائع نہیں ہوتا‘

آصفہ بھٹو ایک موقع پر جذباتی انداز میں صحافیوں سے مخاطب ہوئیں اور کہا کہ آپ لوگ آصف زرداری کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے جانے پر کیوں نہیں لکھتے؟

اس پر آصف زرداری نے کہا کہ یہ لکھتے ہیں، لیکن شائع نہیں ہوتا۔

آصف زرداری سے رہنماؤں کی ملاقات کا سلسلہ ابھی جاری ہی تھا کہ گزشتہ روز نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں گرفتار پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ بھی اسی کمرے میں آن پہنچے۔

آصف زرداری نے گلے لگا کر خورشید شاہ کا استقبال کیا اور سندھی میں پوچھا کہ کیا حال ہیں؟

خورشید شاہ نے جواب دیا کہ مولا کا کرم ہے۔

آصف زرداری نے ان سے پوچھا کہ نیب نے آپ کو کہاں رکھا ہوا ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ جس سیل میں آپ کو رکھا ہوا تھا۔

سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں گرفتار کرا کر غلطی کی ہے۔ جتنی پذیرائی انہیں ان کی گرفتاری پر ملی، اگر وہ مسلسل تقاریر بھی کرتے تو میڈیا پر اتنی تشہیر حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔

خورشید شاہ کی گفتگو کے دوران نیب حکام انہیں متواتر ٹوکتے رہے اور چلنے پر اصرار کرتے رہے۔

خورشید شاہ نے نیب حکام سے کہا کہ عدالت نے اجازت دی ہے، کچھ بات کرنے دیں پھر چلتے ہیں۔

اس پر نیب افسر نے کہا کہ آپ کا ریمانڈ ملا ہے۔ میٹنگ کی اجازت نہیں ملی اور خورشید شاہ سے کہا کہ وہ پانچ منٹ میں اپنی ملاقات مکمل کریں۔ اس پر خورشید شاہ نے کہا کہ مجھے 15 منٹ بیٹھنا ہے اس کے بعد جاؤں گا۔

اس صورتِ حال میں آصف زرداری بھی خاموش نہ رہ سکے اور نیب افسر کو مخاطب کرکے بولے کہ آپ انہیں بیٹھنے دیں۔ ان کے 15 منٹ بیٹھنے سے آپ کی نوکری نہیں جائے گی۔

خورشید شاہ کا راہداری ریمانڈ منظور

اس سے قبل خورشید شاہ کو احتساب عدالت کے جج محمّد بشیر کی عدالت میں پیش کیا گیا تو نیب ٹیم نے عدالت سے ان کا ایک ہفتے کا راہداری ریمانڈ مانگا۔ جس پر جج نے خورشید شاہ سے پوچھا کہ کیا سکھر پہنچنے میں اتنا وقت درکار ہوتا ہے؟

رکنِ اسمبلی نے جواب دیا کہ بذریعہ جہاز دو گھنٹے لگتے ہیں۔

خورشید شاہ کے جواب پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج سکھر کے لیے کوئی بھی پرواز دستیاب نہیں ہے۔

بعد ازاں عدالت نے خورشید شاہ کے دو دن کے راہداری ریمانڈ کی منظوری دے دی۔

واضح رہے کہ خورشید شاہ کو 18 ستمبر کو نیب سکھر اور راولپنڈی کی مشترکہ ٹیم نے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا اور ان پر اپنے ملازمین کے نام بے نامی جائیدادیں رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG