رسائی کے لنکس

logo-print

ججوں کا بھی احتساب شروع ہو چکا ہے: چیف جسٹس


چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ’’سپریم جوڈیشل کونسل مکمل طور پر فعال ہے اور اب ججز کا بھی احتساب شروع ہو چکا ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’لوگ انصاف کے لئے چیخ اور مر رہے ہیں۔ وہ بلک رہے ہیں کہ عدالتوں میں کام نہیں ہو رہا۔ اب کام نہ کرنے والے ججز ہمارا ٹارگٹ ہیں‘‘۔

دوسری جانب، سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور خان کاسی کے خلاف تمام شکایات ختم کر دی ہیں۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ کی ماتحت عدلیہ کی نگرانی کے قواعد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ’’مراعات اور گاڑی کا تو سب مطالبہ کرتے ہیں، اب یہ بتائیں کہ کس نے کتنا کام کیا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’اب کام نہ کرنے والے ججز ٹارگٹ ہیں۔ جو جج کام نہیں کر رہے انہیں کام کرنا ہوگا۔ اب کسی کے ساتھ رعایت نہیں ہوگی۔ ہماری طرف سے ہائی کورٹس، ٹربیونل اور ماتحت عدلیہ پر یہ بات واضح ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اب بہت فعال ہے اور ججز کے بھی احتساب کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’کل ٹرسٹ اراضی کیس میں مظفرگڑھ کے سول جج پیش ہوئے۔ جج نے بتایا کہ ایک ماہ میں صرف 22 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ کیا ہائی کورٹ نے اس جج سے باز پرس کی؟ ہم روزانہ 22 مقدمات کے فیصلے کرتے ہیں، صرف کمرہ عدالت نمبر 1 سے 7 ہزار مقدمات نمٹا چکے ہیں‘‘۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ کیا ہائی کورٹ نے ماتحت عدلیہ میں زیر التوا مقدمات کا جائزہ لیا؟۔ لاہور ہائی کورٹ کارکردگی پر چیف جسٹس نے رجسٹرار ہائی کورٹ کو طلب کر لیا۔

دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیہ کے مطابق، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انور خان کاسی کے خلاف مس کنڈکٹ کی 4 شکایات تھیں اور 11 اکتوبر کو اجلاس میں شکایات کا جائزہ لیا گیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے مطابق کسی بھی شکایت کے ہمراہ ضروری ریکارڈ اور شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔ لہذا، ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پر مس کنڈکٹ کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔

اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

معزول جج شوکت عزیز صدیقی نے وکلا سے مشاورت کی ہے جس کے بعد پیر تک برطرفی کا نوٹی فکیشن سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور وزارت قانون کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی جائے گی۔

گزشتہ روز سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش صدر مملکت کو ارسال کی جسے انہوں نے منظور کرلیا جس کے بعد جسٹس شوکت کو عہدے سے ہٹا دیا گیا جب کہ اس حوالے سے وزارت قانون و انصاف نے برطرفی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا۔

شوکت عزیز صدیقی نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی خفیہ ایجنسی عدالتی امور میں مداخلت کررہی ہے اور خوف و جبر کی فضا کی ذمہ دار عدلیہ بھی ہے جب کہ میڈیا والے بھی گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور سچ نہیں بتا سکتے، میڈیا کی آزادی بھی بندوق کی نوک پر سلب ہو چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG