رسائی کے لنکس

logo-print

'پرویز مشرف کمانڈو ہیں، جرات دکھائیں اور واپس آجائیں'


پرویز مشرف کے حامی کراچی میں ان کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ پرویز مشرف کمانڈو ہیں، وہ جرات دکھائیں اور رضاکارانہ طور پر واپس آجائیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو وطن واپس آنے کی صورت میں سپریم کورٹ میں پیش ہونے تک گرفتار نہ کرے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ پرویز مشرف کمانڈو ہیں، وہ جرات دکھائیں اور رضاکارانہ طور پر واپس آجائیں۔ ایسا نہ ہو انہیں ایسے حالات میں واپس آنا پڑے جو ان کے لیے مناسب نہ ہوں۔

چیف جسٹس نے یہ ریمارکس منگل کو این آر او کیس میں پرویز مشرف کی واپسی کے معاملے کی سماعت کے دوران دیے۔ عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے معاملے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت کے استفسار پر پرویز مشرف کے وکیل نے بتایا کہ پرویز مشرف عدالت کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کے خلاف کئی عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔

وکیل نے بتایا کہ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو مفرور قرار دے رکھا ہے۔ لال مسجد آپریشن میں فوج کو سول فورسز کی مدد کے لیے بلایا گیا لیکن انہیں لال مسجد کیس میں بھی ملزم بنادیا گیا ہے۔

سابق صدر کے وکیل نے عدالت کے روبرو درخواست کی کہ پرویز مشرف کو سنجیدہ بیماری لاحق ہے۔ پرویز مشرف کا ڈاکٹرز نے چیک اپ کیا ہے جس کی رپورٹ جلد آئے گی۔ پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ چیمبر میں دیکھ لیجیے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے بھی چُک پڑی ہوئی ہے، لیکن اس کے لیے میں نے بندوبست کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف وطن واپس آئیں گے تو سکیورٹی فراہم کریں گے۔ وطن واپسی اور عدالت میں پیشی پر گرفتاری نہیں ہو گی۔ اگر وہ لال مسجد کیس میں کالم نمبر 2 میں شامل ہیں تو ملزم نہیں ہوں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت یقین دہانی کرا رہی ہے۔ اگر انہیں باہر رہنا ہے تو رہیں، لیکن جب تک پرویز مشرف حیات ہیں انہیں پیش ہونا پڑے گا۔ خصوصی عدالت میں بغاوت کے مقدمے میں بیان ریکارڈ کرائیں۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے بلانے پر نہ آئیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کی حاضری یقینی بنانے کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کرنا پڑے تو کریں گے۔ عدالت انہیں حفاظت دے رہی ہے۔ رینجرز پرویز مشرف کو سکیورٹی فراہم کرے گی۔ عدالت آنے تک انہیں کوئی نہیں پکڑے گا۔ اس کے بعد قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے وکیل سے ایک ہفتے میں میڈیکل رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ پرویز مشرف کو سپریم کورٹ پیشی تک گرفتار نہ کیا جائے، پیشی کے بعد مناسب حکم جاری کیا جائے گا۔

جنرل (ر) پرویز مشرف پر ملک میں سنگین غداری سمیت کئی مقدمات چل رہے ہیں۔ وہ 2016ء میں علاج کے غرض سے عدالت کی اجازت سے بیرونِ ملک روانہ ہوئے تھے جس کے بعد سے وہ دبئی میں مقیم ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG