رسائی کے لنکس

سیالکوٹ: تعلیم نسواں کی اہمیت اُجاگر کرنے والا مجسمہ کس نے توڑا؟


پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ کے ایک اہم چوراہے میں لڑکیوں کی تعلیم اُجاگر کرنے کے لیے نصب مجسمے کو نامعلوم افراد نے توڑ دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہیں اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

وسطی پنجاب کے شہر میں اس نوعیت کے واقعے پر سنجیدہ حلقے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماضی میں لڑکیوں کے اسکول اور اُن کی تعلیم کی حوصلہ شکنی جیسے واقعات قبائلی اضلاع میں پیش آتے رہے ہیں۔

مجسمے میں کتابوں کے ساتھ کھڑی ایک چھوٹی بچی اور ایک اُستاد کو دکھایا گیا تھا، بچی کا ایک ہاتھ کتاب پر تھا جب کہ پاس کھڑے استاد کا ہاتھ اس کے سر پر رکھا تھا۔ جسے پیر کو نامعلوم افراد نے توڑ دیا ہے۔

مجسمے کو بنوانے والے ڈسکہ شہر ہی کے رہائشی ہیں جن کا نام احمد فاروق ساہی ہے۔ جنہوں نے اپنی ذاتی کوششوں اور سرمایے سے اِس مجسمے کو بنوایا تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے احمد فاروق ساہی نے بتایا کہ اُستاد اور طالبہ کا مجسمہ توڑے جانے کا اُنہیں بہت افسوس ہے۔ پولیس کے ساتھ مل کر وہ بھی ملزمان کا سراغ لگانے میں کوشاں ہیں۔

یہ مجمسمہ ایک مقامی سماجی کارکن نے لگوایا تھا۔ (فائل فوٹو)
یہ مجمسمہ ایک مقامی سماجی کارکن نے لگوایا تھا۔ (فائل فوٹو)

احمد فاروق ساہی کے مطابق پولیس تاحال کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ اُن کے مطابق جو لوگ تعلیم دشمن ہوتے ہیں یا وہ لوگ جو بچیوں کی تعلیم کو پسند نہیں کرتے ہو سکتا ہے کہ اُنہوں نے یہ مجسمہ توڑا ہو۔

احمد فاروق ساہی نے بتایا کہ وہ علاقے میں سماجی کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹا اسپتال بھی اپنی زمین پر بنوا رہے ہیں، ہو سکتا ہے کہ کسی نے بغض میں اِس مجسمے کو توڑ دیا ہو۔

احمد فاروق کے مطابق اُنہوں نے یہ مجسمہ لاہور کے ایک مجسمہ ساز سے بنوایا تھا اور اس کی تیاری میں فائبر استعمال کیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ "مجسمہ لگانے کا مقصد تعلیم کے لیے اور خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کے لیے شعور اُجاگر کرنا تھا۔ مجھے کسی پر شک نہیں ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے توڑنے والے شخص کو ڈھونڈ سکتی ہے۔"

ڈسکہ کے تھانہ سٹی کے ایس ایس او اعجاز بٹ کے مطابق مجسمہ کم و بیش چھ ماہ قبل کالج چوک میں لگایا گیا تھا۔ جس جگہ مجسمہ لگایا گیا تھا وہ تقریباً ڈیڑھ سے دو مرلے ہے جس کے ارد گرد خوبصورتی کے لیے پھول بھی لگائے گئے تھے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا "ہمیں اس واقعے کی درخواست مل چکی ہے۔ جس پر مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔"

ماہرِ تعلیم ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ نے ڈسکہ واقعے پر کہا کہ وہ قیامِ پاکستان سے کچھ عرصہ قبل پیدا ہوئیں۔ لیکن جو کربناک صورتِ حال وہ اب دیکھ رہی ہیں ایسا کبھی نہیں دیکھا۔

ڈاکٹر عارفہ کا کہنا تھا کہ پیغمبرِ اسلام کا یہ قول ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ تو پھر کون ہیں وہ لوگ جو اس بات کی مخالفت کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG