رسائی کے لنکس

ہر سال سوا کروڑ لڑکیاں بچپن میں بیاہ دی جاتی ہیں: یونیسیف


کمر عمر بچیوں کو بڑی عمر کے مردوں سے بیاہنے کے واقعات جنوبی ایشیا میں عام ہیں۔ (فائل فوٹو)

اقوام متحدہ نے 2016 میں دنیا بھر میں لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ کا پروگرام شروع کیا تھا جس کا مقصد خاندانوں، ماہرین تعلیم، صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والوں، مذہبی اور کمیونٹی لیڈرز کے تعاون سے کم عمری کی شادیوں کا رجحان ختم کرنا تھا۔

یونیسیف اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فند نے کہا ہے کہ اس پروگرام میں تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے اور اب یہ 2023 تک جاری رہے گا۔

اس پروگرام کے ذریعے دنیا بھر میں 8 کروڑ لڑکیوں اور 50 لاکھ سے زیادہ کمیونٹی کے افراد کو معلومات کی فراہمی اور سروسز کے ذریعے مدد فراہم کی گئی جس کا مقصد ان کی تولیدی صحت کو بہتر بنانا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2023 تک اس پروگرام کے ذریعے افریقہ کے 12 ملکوں، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ کم عمر لڑکیوں کی مدد کی جائے گی۔

یونیسیف کے اس پروگرام کے باوجود اب بھی، ایک اندازے کے مطابق، دنیا بھر میں ایک کروڑ 20 لاکھ لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی ہے، جس سے ان کی صحت اور مستقبل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

یونیسیف کی ایکزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور کا کہنا ہے کہ اگلے چار سال اس پروگرام کے لیے انتہائی اہم ہیں، تاکہ اس چیز کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔

اس پروگرام کا دوسرا مرحلہ نسلی مساوات پر مرکوز ہے، جس میں توجہ نوعمر لڑکیوں اور خواتین کو درپیش مسائل پر مرکوز کی گئی۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پروگرام کے اس مرحلے کو جاری رکھا جائے گا اور لڑکیوں کی تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ ان کے والدین کو اس بارے میں آگاہی فراہم کی جائے گی کہ بچپن میں شادیوں کے کیا نقصانات ہوتے ہیں۔

انہیں جنسی برابری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بتایا جائے گا کہ شادی کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں قوانین بنانے اور ان کا اطلاق کرنے کی ضرورت ہے۔

اس پروگرام کے دوران کم عمر لڑکیوں سے متعلق قوانین سے آگاہ کرنے اور ان کے نفاذ پر زور دینے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی ایکزیکٹو ڈائریکٹر نتالیا خانم کا کہنا ہے کہ جب تک لڑکیوں کی کم عمری میں شادیاں ہوتی رہیں گی۔ اس وقت تک ہم ایک ایسی دنیا قائم نہیں کر سکیں گے جس میں عورت اور مرد کو برابر کی حیثیت حاصل ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ لڑکیوں کے پاس یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کب اور کس سے شادی کریں گی، وہ کب تک اپنی تعلیم جاری رکھیں گی اور وہ کب بچے پیدا کریں گی یا نہیں کریں گی۔

اس پروگرام کے تحت حکومتوں کو اس بارے میں مدد فراہم کی جائے گی کہ بچپن کی شادیوں کا رواج ختم کرنے کے لیے وہ ایک قومی حکمت عملی کا نفاذ کریں۔

ایک اندازے کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں 65 کروڑ ایسی لڑکیاں اور خواتین موجود ہیں جن کی شادیاں بچپن میں کر دی گئیں تھیں۔ ان میں سے نصف کا تعلق ایسے ملکوں سے ہے جہاں اقوام متحدہ بچپن کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کا پروگرام چلا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک عشرے کے دوران جنوبی ایشیا میں بچپن کی شادیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، جس کے پیش نظر اب اس پروگرام کی توجہ صحارا کے افریقی ملکوں کی جانب مبذول کر دی گئی ہے، جہاں آبادی میں تیز رفتار اضافے کو روکنے کے لیے بچپن کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ جب ایک لڑکی کو بچپن میں شادی پر مجبور کر دیا جاتا ہے تو اسے فوری طور پر بھی اور عمر بھر کے لیے بھی اس کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں جس میں گھریلو تشدد بھی شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG