رسائی کے لنکس

logo-print

آزادی مذہب سالانہ رپورٹ، نقل مکانی اور جبر و استبداد


محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں، جان کیری نے کہا ہے کہ اپنے مذہبی عقیدے کا پرچار کرنا اور عمل پیرا ہونا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکہ دنیا بھر کی اُن مذہبی اقلیتوں کا ساتھ دے گا، جنھیں حملے اور خطرات درپیش ہیں۔

کیری نے یہ بات بین الاقوامی مذہبی آزادی کے سلسلے میں محکمہٴخارجہ کی سالانہ رپورٹ کے اجرا کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ اپنے مذہبی عقیدے کا پرچار کرنا اور عمل پیرا ہونا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال لاکھوں لوگوں کو محض اُن کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر نقل مکانی کرنی پڑی۔ اِس میں کہا گیا ہے کہ تنازع کی زونز میں بڑے پیمانے پر گھربار چھوڑنا ایک ’ضرر رساں طرز عمل‘ بنتا جا رہا ہے۔

کیری نے کہا کہ اس سال کی آزادی مذہب کی رپورٹ میں شمالی کوریا خصوصی طور پر نمایاں ہوا ہے، جس کی وجہ مذہبی سرگرمیوں کے خلاف اُس کا سریحاً جبر پر مبنی طریقہ کار ہے۔

اُنھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ روسی حکومت نے اپنے عوام کے خلاف تادیبی قوانین کے استعمال کا جواز، بقول اُن کے، انتہا پسندی کو کچلنے کے اقدام کے طور پر پیش کرتی ہے۔

کیری نے یہ بھی کہا کہ چین کے حکام مسیحی برادری کو ہراساں کرتے ہیں؛ اور محض دلائی لامہ کی تصاویر برآمد ہونے کے جرم میں تبتی بودھوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں جمہوریہ وسط افریقہ میں سال 2013کے دوران مسیحیوں اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں میں تیزی آنے کے نتیجے میں 10 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر حصوں میں، مسیحیوں کے ساتھ زیادتی عام معاملہ ہے۔ تین برس سے جاری خانہ جنگی کے باعث مسیحی برادری کے لاکھوں افراد شام سے بیرون ملک جانے پر مجبور ہوئے۔

جنوب مشرقی ایشیا میں، مسلمانوں کے خلاف تشدد کی کارروائیاں میانمار کے کشیدگی کے شکار علاقے سے بڑھ کر مغربی اور وسطی مختیلہ تک پھیل چکی ہے؛ جس میں اب تک 100 ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، جب کہ 12000 لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG