رسائی کے لنکس

logo-print

گرایا گیا روسی لڑاکا طیارہ ترک فضائی حدود میں تھا: امریکہ


یہ بات امریکی محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان، الزبیتھ ٹروڈو نے پیر کے دِن واشنگٹن میں اخباری نمائندوں کو بتائی۔ اُنھوں نے کہا کہ دستیاب اطلاعات سے صاف عندیہ ملتا ہے کہ روسی طیارے نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی

اپنے اور ترک ذرائع سے، امریکہ کے پاس اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ گذشتہ ہفتے روسی لڑاکا طیارے نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی، جس پر اُسے گرایا گیا تھا۔

یہ بات امریکی محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان، الزبیتھ ٹروڈو نے پیر کے دِن واشنگٹن میں اخباری نمائندوں کو بتائی۔

اُنھوں نے کہا کہ دستیاب اطلاعات سے صاف عندیہ ملتا ہے کہ روسی طیارے نے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

ٹروڈو نے مزید بتایا کہ ’ہمیں اس بات کا بھی پتا ہے کہ ترکوں نے متعدد بار روسی پائلٹوں کو فضائی حدود کی خلاف ورزی پر متنبہ کیا ، جب کہ ترکوں کو اس کا کوئی جواب نہیں ملا‘۔

روس اس بات پر مصر ہے کہ طیارہ شام کی سرزمین سے باہر نہیں گیا۔ لڑاکا طیارہ شمالی شام میں اُس مقام پر گرا جہاں باغیوں کا قبضہ ہے۔

ادھر، ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤداوگلو نے پیر کے روز کہا ہے کہ لڑاکا جہاز گرائے جانے پر اُن کا ملک معذرت کا اظہار نہیں کرے گا۔ اُنھوں نے یہ بات برسلز میں نیٹو کے سربراہ، ژاں اسٹولٹن برگ سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اُنھوں نے کہا کہ ترک افواج نے اپنی ملکی فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اپنا ’فرض‘ انجام دیا۔

پیرس میں پیر ہی کے روز ایک اخباری کانفرنس کے دوران، پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ روس کے پاس ’اضافی اطلاعات‘ موجود ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ شام میں داعش کے گروپ کی جانب سے قبضہ کئے گئے تیل کی بڑی مقدار ترکی کو بھیجی جاتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جیٹ طیارے کو مار گرانے کا قوی مقصد یہی خواہش لگتی ہے کہ تیل کی رسد کو جاری رکھنے کو یقینی بنایا جائے کہ یہ اُن بندرگاہوں تک پہنچ سکے جہاں اُنھیں ٹینکروں میں ڈالا جاتا ہے۔

روسی صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ موسمیاتی تبدیلی کے سربراہ اجلاس کے دوران، اُنھوں نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات نہیں کی۔

ترک صدر نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اُنھیں امید ہے کہ پیرس کے سربراہ اجلاس کی عمارت سے باہر اُن کی روسی ہم منصب سے بالمشافیٰ ملاقات ہوگی۔

XS
SM
MD
LG