رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے حالات پر گہری نگاہ رکھی جا رہی ہے: امریکہ


خاتون ترجمان کے بقول، ’ہم سمجھتے ہیں کہ فریقین کو آپس میں مل بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرنے چاہئیں، اور پاکستان کی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا چاہیئے‘

محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ پاکستان کی صورت حال پر ’باریک بینی سے نگاہ رکھی جا رہی ہے‘، اور یہ کہ ’ہم اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں‘۔

اُنھوں نے یہ بات منگل کے روز ہونے والی پریس بریفنگ کےدوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔

اِس سوال پر کہ پاکستان کے حالات ’کس طرف جا رہے ہیں‘، اُنھوں نے کہا کہ ’ہم آپ کے لیے کسی طرح کی کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتے۔ ہم عام طور پر ایسا نہیں کیا کرتے‘۔

جین ساکی کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس بات کا ’اعادہ‘ کرنا چاہیں گی کہ ’ہم کسی عمل یا فریقین کے مابین بات چیت کے حوالے سے، کسی طور پر، شامل نہیں۔ اِس لیے، ہم کسی قسم کا کوئی حقیقی تجزیہ پیش کرنے کے قابل نہیں آیا وہاں کیا ہو رہا ہے۔ ماسوائے اِس امر کے اعادے کے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ فریقین کو آپس میں مل بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرنے چاہئیں، اور پاکستان کی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا چاہیئے۔‘

اُن سے سوال کیا گیا تھا کہ پارلیمان میں حزب مخالف کی جماعتیں وزیر اعظم کی حمایت کر رہی ہیں اور اُنھوں نے اِس بات کا یقین دلایا ہے کہ وہ تشدد پر مبنی یا کسی ماورائے قانون اقدام کے ذریعے اُنھیں ہٹانے کی مخالفت کریں گی۔ کیا کسی فوجی انقلاب کی صورت میں پاکستان پر تعزیرات عائد کی جائیں گی؟ اِس متعلق کوئی بیان؟

ایک اور سوال پر کہ ‘کیا یہ بات درست ہے کہ دولت الاسلامیہ پاکستان میں اپنے پمفلیٹ تقسیم کر رہی ہے جن میں پاکستان کی شیعہ برادری کے خلاف مہم چلانے کے لیے کہا جا رہا ہے؟‘۔ خاتون ترجمان نے کہا کہ وہ اِس بات کی ’کوئی تصدیق نہیں کر سکتیں‘۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو بند کرنے کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔ جین ساکی نے کہا کہ اِس بارے میں وہ کوئی ’پیش گوئی‘ نہیں کر سکتیں۔

بقول اُن کے، اپنے اہل کاروں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ِامریکہ ضروری اقدامات کرتی رہتی ہے۔

XS
SM
MD
LG