رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کو غیر جوہری بنانے سے متعلق امریکی کوششوں کے نتائج غیر واضح


صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے ہم منصب کم جونگ ان کے درمیان سنگاپور میں پہلی ملاقات کے موقع پر لی جانے والی ایک تصویر۔ 12 جون 2018

شمال مشرقی ایشیائی امور کے ایک ماہر، بروس کیلنگر کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ یہ قیاس کر رہے ہیں کہ پس پردہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان خاصی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اسلحے کو ترک کرنے کے وعدوں پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ تاہم اس کے باوجود، یہ واضح نہیں ہے کہ اب تک کیا حاصل ہوا ہے۔ جبکہ امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے اپنے ہم منصب کم جونگ اُن کے درمیان دوسری سربراہی ملاقات کا اعلان کر دیا ہے۔

ہیرٹیج فاؤنڈیشن میں شمال مشرقی ایشیائی امور کے سینیر ریسرچ فیلو، بروس کیلنگر کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ یہ قیاس کر رہے ہیں کہ پس پردہ دونوں فریقوں کے درمیان خاصی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔

بروس کہتے ہیں کہ جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن کی جانب سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ملاقات کے مطالبے کے باوجود، شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اسلحے کو ترک کرنے کا عمل، کئی مہینوں سے تعطل کا شکار ہے۔ جبکہ سر آئینہ پیش رفت کے بھی بہت کم اشارے ملے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن سے فروری کے آخر میں ملاقات کریں گے۔ اس بارے میں بروس کلنگر کا کہنا ہے کہ چند روز پہلے، نائب صدر پینس کا کہنا تھا کہ امریکہ ابھی تک شمالی کوریا کاانتظار کر رہا ہے کہ وہ جوہری اسلحے کو ترک کرنے کا اعادہ کرے۔ ایک تو ان دونوں باتوں میں تضاد ہے۔ دوسرے نہ صرف گزشتہ برس کی سربراہی ملاقات کے وقت سے، بلکہ عشروں سے امریکہ اور شمالی کوریا کے موقف میں تضاد رہا ہے۔

تاہم سٹریٹیجک انیلیسس فور سٹریٹ فور کے نائب صدر روجر بیکر کہتے ہیں کہ معاملہ یہ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک یوں محسوس ہوتا ہے کہ دراصل،امریکہ سے زیادہ شمالی کوریا، دوسری سربراہی ملاقات کے لئے إصرار کر رہا ہے۔ صدر کم جونگ ان کے نئے سال کے خطاب میں کیے گئے اعلانات کو دیکھیں تو اس میں شمالی کوریا نے امریکہ کو باور کروایا ہے کہ وہ اس کے رویے میں کچھ نہ کچھ تبدیلی دیکھنا چاہتا ہے ورنہ وہ دوبارہ اپنا جوہری پروگرام کو شروع کر دے گا۔ اس سے پہلے شمالی کوریا، چین کے پاس یہ دیکھنے گیا تھا کہ کیا وہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔ چین اب بھی اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ شمالی کوریا کے اعلیٰ عہدے داروں کے چین کے دورے کے بعد انہوں نے امریکہ سے بات کی۔

ادھر سینٹر فار دی نیشنل انٹریسٹ میں ڈیفینس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر، ہیری کازیانیس نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس وقت شاید دونوں فریقین کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ جوہری اسلحہ ترک کرنے کے لئے انہیں ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

ہیری کہتے ہیں کہ بات اب یہ ہے کہ ایک ایسے عارضی سمجھوتے تک پہنچا جائے، جس میں دونوں فریق فاتح کے طور پر سامنے آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کسی بھی طرح کے ہوں، ایسا کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔

صدر ٹرمپ نے ڈی نیوکلرائزیشن یعنی جوہری اسلحہ ترک کرنے پر شمالی کوریا کے نمائندے سے یہاں امریکہ میں تقریباً دو گھنٹے تک ملاقات کی۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نئے سربراہی اجلاس کے لئے مقام کا تعین جلد کر دیا جائے گا، اور یہ کہ کم جونگ اِن اس ملاقات کے مشتاق ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اور نہ ہی وائٹ ہاؤس نے ملاقات کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن اور پیانگ یانگ، دونوں نے ہی دوسری سربراہی ملاقات کے مقام اور وقت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم کچھ لوگوں کا قیاس ہے کہ یہ ملاقات ویت نام میں ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG