رسائی کے لنکس

صحافیوں کے اہلِ خانہ آمرانہ حکومتوں کے نشانے پر


صحافیوں کو خاموش کرنے کے لیے مطلق العنان حکومتیں اکثر ان کے خاندان کو نشانہ بناتی ہیں۔

صحافیوں کے تحفظ کی علم بردار تنظیموں کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم صحافیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے انہیں ان کے عزیز رشتہ داروں کے حوالے سے دھمکیاں دینا کئی ایسے ملکوں کی حکومتوں کا پسندیدہ کام ہے، جہاں امورِ حکومت کو جمہوری نہیں، آمرانہ انداز سے چلایا جاتا ہے۔

رواں برس کی شروعات میں وائس آف امریکہ کے فارسی سروس کی ٹی وی میزبان مسیح علی نژاد کے بھائی کو ایرانی حکام کی جانب سے حراست میں لیا گیا، جو اس بات کا عکاس تھا کہ رپورٹرز کے کام کی وجہ سے ان کے قریبی عزیزوں کو کس قسم کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

علی نژاد کیس کی روشنی میں وائس آف امریکہ نے ایک درجن سے زائد ایسے صحافیوں سے بات کی جو اپنے اپنے ملکوں سے دور اپنے کام کی وجہ سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان صحافیوں میں وینیزویلا، مصر، ترکی، چین، پاکستان اور دوسرے ممالک کے صحافی شامل ہیں, جنہوں نے بتایا کہ وہ اپنے ملکوں کے حکام کے جبر سے بچنے کے لیے وطن چھوڑ کر آئے تھے، لیکن اب ان کے رشتے دار حکومتی عتاب کا شکار ہیں۔

وائس آف امریکہ کے ایکسٹریمزم واچ ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق کئی دفعہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان صحافیوں کے رشتے داروں کو کال کر کے کہتے ہیں کہ وہ اپنے رشتے دار صحافیوں سے رابطہ کر کے انہیں صحافت چھوڑنے پر مجبور کریں۔ بصورت دیگر ان رشتے داروں کو ملازمت سے برطرفی، کاروباری معاہدوں میں مشکلات اور اثاثوں کی ضبطی جیسی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اکثر کیسز میں، والدین یا بہن بھائیوں کو بنا کسی وجہ کے لمبے عرصے تک جیل میں رکھا گیا۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والے ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینیتھ روتھ کے مطابق، صحافیوں کو خاموش کرنے کے لیے استبدادی حکومتیں، اکثر ان کے خاندان کو نشانہ بناتی ہیں۔

بقول ان کے، کچھ خاندان اس بارے میں بات کر لیتے ہیں اور یہ فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں کہ صحافیوں یا بیرون ملک بیٹھے حکومتی ناقدین کی رائے کی وجہ سے جن مصائب کا خطرہ ہے، وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ایسی صورت میں صحافی اور ناقدین اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔

لیکن روتھ کے مطابق، بعض دوسرے کیسز میں خاندان کی سلامتی کے لیے صحافی خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے رابرٹ موہانے کے مطابق اس خوف کی وجہ سے صحافی اس طرح سے ہراساں کیے جانے کی اطلاع دینے سے بھی کتراتے ہیں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اریٹریا یا چین جیسے ممالک میں قید صحافیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ بول کر اپنے رشتے داروں کی زندگی مشکل بنانا نہیں چاہتے۔

کیا پاکستانی میڈیا ذمہ دار صحافت کر رہا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:50 0:00

اگرچہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور سی پی جے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے صحافیوں کے اعداد و شمار نہیں رکھتے مگر دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ آمرانہ حکومتوں کے ایسے ہتھکنڈوں میں تیزی آتی جا رہی ہے۔

برطانیہ کی بی بی سی فارسی سروس کے مرتب کردہ ایک جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ محض کسی ایک ادارے میں اس رویے کا شکار صحافی کس قدر زیادہ تعداد میں ہیں۔

بی بی سی فارسی کے سٹاف میں موجود 102 صحافیوں سے مارچ میں سروے کیا گیا جن میں سے 69 نے بتایا کہ ایران میں ان کے کم از کم ایک رشتے دار کو حکام نے پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔ بعض کو باقاعدہ طور پر یا تو ہراساں کیا گیا یا انہیں دھمکیاں دی گئیں۔

سروے میں شامل تقریباً نصف صحافیوں نے بتایا کہ ان کے والدین میں سے کسی کا انتقال ہوا تو وہ حکام کی جانب سے نشانہ بننے کے خطرے کی وجہ سے ان کے جنازے میں نہ جا سکے۔

بی بی سی فارسی سروس کی کسرا ناجی، جنہوں نے وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کے ساتھ اس سروے کے نتائج کا تبادلہ کیا تھا، انہوں نے بتایا کہ بی بی سی فارسی سروس کے 152 موجودہ اور سابقہ صحافیوں کے خلاف ایران کی جانب سے مختلف جرائم کے الزامات کے تحت تفتیش چل رہی ہے اور 2017 کے بعد سے ان کی حکومت نے ایسے صحافیوں کے ملک میں موجود اثاثے ضبط کرنے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔

وائس آف امریکہ نے اقوام متحدہ میں موجود ایران کے نمائندے سے ان الزامات پر ردعمل لینے کے لیے رابطہ کیا مگر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک کمیٹی کے اکتوبر 2018 کے ایک اجلاس میں اپنے خلاف عائد کئے گئے الزامات کورد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران دشمن ممالک کی جانب سے مالی اعانت پر پلنے والے میڈیا کی جنگ کا نشانہ بن رہا ہے۔

ایران، چین اور مصر ایسے ممالک ہیں، جہاں حکام جب ان صحافیوں کو براہ راست نشانہ نہیں بنا سکتے تو ان کے رشتے داروں کو بنا کسی جرم کے طویل عرصے تک جیلوں میں بند رکھتے ہیں۔

ایمنسیٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ایڈووکیسی ڈائریکٹر فلپ ناسف کا کہنا تھا کہ کسی کو بنا کسی جرم کے گرفتار کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب خاندان کے ارکان کو بھی نہیں بخشا جاتا، خصوصاً جب حکومتی پالیسیوں کے ناقدین بیرون ملک مقیم ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے دور ہوں۔

جب مسیح علی نژاد کے بھائی کو ایران میں قومی سلامتی کی دفعات کے تحت آٹھ برس کے لیے قید کی سزا دی گئی تو انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ ان کی تہران پر تنقید کو خاموش کروانے کے لیے ان کے بھائی کو یرغمال بنا رہا ہے۔ مسیح علی نژاد وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کے لیے نیویارک سے ٹیبلٹ نامی شو کی میزبانی کرتی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے روتھ کا کہنا تھا کہ کچھ حکومتیں اس بات کو واضح کر دیتی ہیں کہ اگر ان قید ہونے والے افراد کے باقی رشتے داروں نے ان کی قید کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں بھی قید کر دیا جائے گا۔

مصر کے صدر جنرل عبدالفتح السیسی کے اقتدار میں آنے کے بعد الشرق کے رپورٹر معتز مطر نے ملک چھوڑ دیا تھا۔ انہیں اشتعال دلانے کے الزام میں، ان کی غیر موجودگی میں 2015 میں دس برس قید کی سزا دی گئی تھی۔ جب مصری حکام انہیں نشانہ بنانے میں ناکام رہے تو وہ ان کے والد اور بہن بھائیوں کو بار بار حراست میں لیتے رہے۔

مطر نے سوشل میڈیا پر ایک مہم کے ذریعے اپنے خاندان کے مصائب کے بارے میں آواز اٹھائی تو مصری حکام نے ان کی والدہ کے گھر میں چھاپا مار کر ان کے دیگر دو بھائیوں کو بھی حراست میں لے لیا۔

وائس آف امریکہ کی جانب سے ان الزامات کے ردعمل کے لیے مصری وزارت خارجہ کے ساتھ رابطہ کیا گیا، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

چین کی جانب سے نسلی گروہ ایغور اور ان کے مصائب کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو نشانہ بنانے کے عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آمریت پسند حکومتیں اس سلسلے میں کسی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے چین میں بڑے پیمانے پر ہونے والی حراستوں، جبری مزدوری اور ’دوبارہ تعلیم‘ دینے والے پروگراموں کا جب انکشاف کیا گیا تو چین نے اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیا۔

غیر ملکی صحافیوں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے ان کے سنکیانگ کے سفر پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ایسے عینی شاہدین نے، جو چین سے فرار ہو کر حکام کے مظالم کا پردہ فاش کر چکے ہیں، بتایا کہ ان کے پیاروں کو یا تو قید کر دیا گیا یا انہیں حکام کی جانب سے ہراساں کیا گیا، تاکہ وہ چین کے خلاف آواز بہ اٹھائیں۔

اپنے کام کی وجہ سے حکام کی جانب سے قید ہونے کے بعد صحافی عبدالولی ایوب نے ملک چھوڑ دیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے بیرون ملک سے بیٹھ کر بھی چین کی نسلی اقلیت ایغور کے بارے میں رپورٹنگ جاری رکھی تو چین میں ان کے بہن اور بھائی کو قید کر لیا گیا۔

ایوب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہیں اب تک معلوم نہیں ہے کہ ان کے بھائی اور بہن کہاں ہیں۔ دوستوں نے ایوب کو بتایا کہ ان کی بہن کو مجبور کیا گیا کہ وہ جس سکول میں پڑھاتی تھیں وہاں اپنے ساتھی ملازمین کے سامنے ایوب کے الزامات کے غلط ہونے کا اعلان کریں۔

وائس آف امریکہ کی جانب سے ان الزامات کے ردعمل کے لیے چینی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطہ کیا گیا، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں حکومتوں کے لیے مکمل طور پر سینسرشپ کا نفاذ ممکن نہیں رہا۔ ایسے میں جبری یا خود ساختہ طور پر جلاوطن صحافی بیرون ملک بیٹھ کر اپنے ملکوں میں ہونے والی کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کر سکتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے روتھ کا کہنا تھا کہ ایسی حکومتیں جو اختلاف رائے رکھنے والے صحافیوں اور ناقدین کا منہ بند کرنا چاہتی ہیں وہ بھی جلاوطن صحافیوں کو خاموش نہیں کر سکتیں۔

ان کے بقول، اگر حکومت ملک میں موجود غیر جانبدار میڈیا کو بند بھی کر دے، تو بھی باہر بیٹھے لوگوں کی رپورٹنگ کو سوشل میڈیا پر شئیر کیا جا سکتا ہے اور اس سے لوگوں میں بات پھیل جاتی ہے۔

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG