رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں طالبان کے بڑھتے حملوں پر اقوامِ متحدہ کی مذمت


فائل فوٹو

افغانستان میں شدت پسندی کی بڑھتی ہوئی حالیہ لہر اور طالبان کی جانب سے حملوں پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان واقعات کی مذمّت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول عمل قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے جمعرات کو جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی کونسل کے ارکان حالیہ چند ہفتوں میں افغانستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

اعلامیے میں بالخصوص کابل کے دھماکوں اور چاریکار میں افغان صدر کی انتخابی ریلی پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے ارکان ان بزدلانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جن کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات ہر صورت میں بند ہونے چاہیئں۔

اقوامِ متحدہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے ارکان ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں، جب کہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے دہشت گردی کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کارروائیوں کے مرتکب افراد، منتظمین، مالی سہولت کاروں اور کفیلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سلامتی کونسل نے تمام ملکوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اس سلسلے میں افغان حکومت اور دیگر تمام متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں۔

سیکورٹی کونسل کے ارکان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہر قسم کی دہشت گردی ایک مجرمانہ عمل ہے، خواہ وہ کسی بھی مقصد کے لیے ہو۔ پُرتشدد واقعات کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی جا سکتی۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کا یہ مذمتی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان میں امن کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات منسوخ ہو چکے ہیں، جس کے بعد سے طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ چند دنوں میں طالبان کے مختلف حملوں سے درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG