رسائی کے لنکس

logo-print

'طالبان کا رویہ مذاکرات کے مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتا تھا'


Afghanistan Peace Talks

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی سفارت کار زلمے خلیل زاد نے جمعرات کو بند کمرے میں ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ارکان کو طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل ہونے کے سلسلے میں بریفنگ دی اور ان کے سوالوں کے جواب دیے۔

کمیٹی کے چیئرمین کانگریس مین ایلیٹ اینگل نے گزشتہ ہفتے زلمے خلیل زاد کو سمن جاری کرتے ہوئے کمیٹی کے سامنے طلب کیا تھا۔

بدھ کو اینگل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ زلمے خلیل زاد امریکی محکمہ خارجہ میں اس موضوع پر کئی روز تک جاری رہنے والے اجلاس میں شرکت کے بعد جمعرات کو بند کمرے کے اجلاس میں کمیٹی کو بریفنگ دیں گے اور ارکان کے سوالوں کے جواب دیں گے۔

زلمے خلیل زاد کی امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی میں پیشی
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:25 0:00

اجلاس کے بعد وائس آف امریکہ کے ایک سوال کے جواب میں کمیٹی کے چیئرمین ایلیٹ اینگل نے کہا کہ اب صدر کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ آگے کیا کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے بقول ’’میرا خیال ہے کہ ابھی بہت سے سوالات کے جواب آنا باقی ہیں۔ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ صدر کوئی فیصلہ کریں۔ میری رائے میں صدر کو یہ فیصلہ جلد کرنا چاہیے۔ ‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو طے کرنا ہے کہ وہ کیسے افغان مذاکرات کے معاملے پر کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہے۔ تاہم ہم نے بند کمرے میں اس لیے اجلاس بلایا کیونکہ حکومت کو ہمارے ساتھ کام کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

تاہم بند کمرے کے اجلاس کے بعد جنوبی ایشیا کے لیے قائم مقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئیں اور انہوں نے مختلف سوالات کے جواب دیے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کمیٹی کا اجلاس
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:22 0:00

ایلس ویلز نے ارکان کانگریس کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات منقطع کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ ایک برس کے دوران مذاکرات کے جو نو دور ہوئے ہیں، طالبان کا رویہ ان مذاکرات کے طرز عمل سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اچانک یہ اعلان کر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا کہ انہوں نے طالبان اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں الگ الگ ہونے والی خفیہ بات چیت کو منسوخ کر دیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے طالبان کی طرف سے حملے جاری رکھنے کے اقدام کے باعث یہ مذاکرات مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔ ان حملوں میں ایک امریکی فوجی بھی مارا گیا تھا۔

اس سے قبل زلمے خلیل زاد نے قطر کے شہر دوحہ میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے 9 دور مکمل کیے اور صدر ٹرمپ کی طرف سے مزید مذاکرات مکمل طور پر ختم کیے جانے کے اعلان سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ حتمی سمجھوتے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔

اس سمجھوتے کے مطابق امریکہ نے افغانستان کے پانچ فوجی اڈوں سے 5000 فوجیوں کو واپس بلانے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کے بدلے میں طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ سے رابطے ختم کر دیں گے اور یہ ضمانت دیں گے کہ افغانستان کی سر زمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان یہ سمجھوتہ طے ہو جانے کی صورت میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار ہو جاتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG