رسائی کے لنکس

logo-print

جموں و کشمیر کی سیکورٹی سخت، ریاستی تشخص قائم رکھنے کا وعدہ


کئی روز گزر جانے کے باوجود بھی جموں و کشمیر میں حالات معمول پر نہیں آ سکے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں سیکورٹی فورسز نے سیکورٹی مزید سخت کرتے ہوئے نئے بنکرز اور نگرانی کے لیے مزید مورچے قائم کر دیے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شورش زدہ علاقوں کے حفاظتی بندوبست کو مستحکم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

کشمیر کے ریاستی دارالحکومت سری نگر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران حفاظتی دستوں نے تقریباً دو درجن نئے مورچے قائم کیے ہیں، جب کہ چند مقامات پر پولیس کے ماہر نشانہ بازوں (شارپ شوٹرز) کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

مورچوں میں تعینات وفاقی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہل کار مختلف قسم کی بندوقوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس نظر آتے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق، مورچوں میں اضافہ اس لیے کیا گیا ہے کہ کسی ممکنہ مظاہرے اور پرتشدد کارروائی پر موثر طریقے سے قابو پایا جا سکے۔

حکام یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ علیحدگی پسند مستقبل قریب میں اپنی سرگرمیاں تیز کرنے کی کوششیں کر سکتے ہیں۔

ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ وادی کے حساس علاقوں بالخصوص سری نگر میں مقامی نوجوانوں کی طرف سے سنگ باری کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اس لیے حفاظتی دستوں کی مناسب تعداد کا ان علاقوں میں ہمہ وقت موجود رہنا ضروری ہے۔

پولیس افسر نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کو خفیہ ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ علیحدگی پسند مستقبل قریب میں اپنی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور ان کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ کشمیر میں 80 کی دہائی میں مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا تھا جس کے بعد سری نگر میں سیکورٹی فورسز نے بڑی تعداد میں مورچے قائم کیے تھے۔

چھ برس قبل وادی میں امن و امان کی صورتِ حال قدرے بہتر ہونے پر ان مورچوں اور بنکروں میں سے متعدد کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ لیکن، آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کے باعث اب ان میں دوبارہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق حکام وادی کے حالات کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیتے ہیں اور اس سلسلے میں سری نگر میں ہر شام حفاظتی دستوں اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ عہدے داروں کے اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو بھی کشمیر کی صورتِ حال سے روز آگاہ کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب بدھ کو مسلسل چوبیسویں روز بھی کشمیر کے کئی علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار ہیں۔ کاروبار معطل اور موبائل فون و انٹرنیٹ سروسز تاحال بند ہیں۔ وادی کے متعدد علاقوں میں لینڈ لائن ٹیلی فون سروس بھی بند ہے۔

سری نگر کے چند مقامات پر نوجوانوں کی ٹولیوں نے حفاظتی دستوں پر سنگ باری بھی کی ہے جس میں کم از کم دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

اس دوران بھارت کی سپریم کورٹ نے آئین ہند کی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے اقدام کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کو ایک پانچ رکنی آئینی بنچ کو منتقل کر دیا ہے۔

بھارتی کشمیر کے گورنر ستیہ پال کا بیان

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے یقین دلایا ہے کہ ریاست کی شناخت، ثقافت، زبانوں، مذاہب، تمدن اور سماج کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا "ہم ان پر کسی خارجی دباؤ کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ان کا دفاع کریں گے اور ان کو محفوظ بنالیں گے"۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھی ریاستی عوام کو یقین دہانی ہے۔

ستیہ پال اگست کے پہلے ہفتے میں بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی نیم خود مختاری کو ختم کرنے اور متنازعہ ریاست کو تقسیم کر کے وفاق کے دو زیرِ انتظام علاقے بنانے کے اقدام کے بعد پہلی مرتبہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا آیا حکومت اس سلسلے میں ایک آرڈیننس جاری کرے گے تو انہوں نے کہا " وہ دور کی بات ہے"۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو ہر کشمیری کی جان عزیز ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ریاست میں حفاظتی بندشیں عائد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اٹھائے گیے اقدامات کی بدولت حالیہ واقعات کے دوران ایک بھی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی جو اس سے قبل کی بدامنی کے دوران پیش آنے والے خون خرابے کے بالکل برعکس ہے۔

انہوں نے کانگریس پارٹی کے لیڈر راہول گاندھی کو سیاسی طفل قرار دیا اور کہا کہ کشمیر پر ان کے حالیہ بیانات کی وجہ سے پاکستان کو فائدہ پہنچا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG