رسائی کے لنکس

logo-print

آرٹیکل 370: بھارتی سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ


سپریم کورٹ آف انڈیا۔(فائل فوٹو)

سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے پانچ رکنی بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کے خلاف مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران کیا۔

خیال رہے کہ بھارت کی حکومت نے پانچ اگست کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس سے قبل جموں و کشمیر میں کرفیو لگا کر مواصلاتی رابطے بھی منقطع کر دیے گئے تھے۔

انڈین سپریم کورٹ نے درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی اور جموں و کشمیر کی حکومتوں کو نوٹسز بھی جاری کر دیے ہیں۔ دوران سماعت بھارت کے اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ عدالت اس معاملے پر نوٹس جاری نہ کرے کیوں کہ ہمسائیہ ملک اس سے غلط فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کشمیر ایک حساس معاملہ ہے ہمیں ذمہ داری کے ساتھ اس معاملے کو دیکھنا ہو گا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کئی روز گزر جانے کے باوجود کرفیو نافذ ہے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کئی روز گزر جانے کے باوجود کرفیو نافذ ہے۔

سپریم کورٹ میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں میڈیا پر عائد پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے اس معاملے پر بھی وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے آمد و رفت اور سفری مشکلات سے دوچار مختلف درخواست گزاروں کی شنوائی کے لیے احکامات بھی جاری کیے۔

بھارتی حکومت کے فیصلے کے خلاف بھارت کے سینئر قانون دان ایم ایل شرما سمیت 14 درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

بھارت کی سپریم کورٹ میں اس اہم سماعت پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی سپریم کورٹ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دباؤ میں ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کی سپریم کورٹ کا امتحان ہے کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلہ کرتی ہے یا مودی سرکار کے سامنے گھٹنے ٹیکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG