رسائی کے لنکس

سرینگر: گڑ بڑ کے خدشات کے پیش نظر، سخت حفاظتی اقدامات

  • یوسف جمیل

اطلاعات کے مطابق، میر واعظ عمر فاروق کو اُن کے گھر میں نظر بند کردیا گیا۔ وہ جمعہ کے روز جامع مسجد میں وعظ و تبلیغ کرتے ہیں اور ایک دیرینہ روایت کی تقلید میں نماز سے پہلے سیاسی اور سماجی امور پر تقریر بھی کرتے ہیں

حفاظتی دستوں نے جمعہ کو نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے حساس علاقوں میں کرفیو یا کرفیو جیسی پابندیاں عائد کیں۔

پُرانے شہر میں واقع جامع مسجد کے مرکزی دروازے پر علی الصباح تالا لگادیا گیا اور پھر بھاری تعداد میں مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر تاریخی عبادت گاہ کی طرف جانے اور وہاں جمعہ کی نماز ادا کرنے سے روکا۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسا حفظِ ماتقدم کے طور پر کیا گیا، کیونکہ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اُنہیں خدشہ تھا کہ مسجد میں عبادت کے لئے جمع ہونے کی آڑ میں، ان کے اپنے الفاظ میں، ’’شرپسند عناصر گڑ بڑ پھیلا سکتے ہیں‘‘۔

اس سے پہلے کشمیر کے سرکردہ مذہبی اور سیاسی راہنما میر واعظ عمر فاروق کو اُن کے گھر میں نظر بند کردیا گیا تھا۔ وہ جمعہ کے روز جامع مسجد میں وعظ و تبلیغ کرتے ہیں اور ایک دیرینہ روایت کی تقلید میں نماز سے پہلے سیاسی اور سماجی امور پر تقریر بھی کرتے ہیں۔

عہدیداروں نے سرینگر اور مسلم اکثریتی وادئ کشمیر کے بعض دوسرے حصوں میں حفاظتی پابندیاں عائد کرنے اور بڑی مساجد اور دوسری اہم عبادت گاہوں کے ساتھ ساتھ حساس علاقوں، مصروف بازاروں، چوراہوں اور سڑکوں پر معمول سے زیادہ سکیورٹی انتظامات کے تحت پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری بٹھانے کا فیصلہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کی طرف سے جاری کی گئی ایک اپیل کے بعد کیا۔

اپیل میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ نمازِ جمعہ کے بعد امریکی محکمہٴ خارجہ کی طرف سے کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کے خلاف احتجاج کریں۔

محکمہٴ خارجہ نے پیر کو سید صلاح الدین کو، جن کا اصلی نام محمد یوسف شاہ ہے اور جن کا تعلق سرینگر کے مضافات میں واقع گاؤں سویہ بُگ سے ہے، دہشت گرد قرار دے کر عالمی دہشت گردی کی خصوصی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

واشنگٹن میں جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا "یہ اقدام ایسے غیر ملکی دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کیا جاتا ہے، جو دہشت گردانہ حرکات میں ملوث رہی ہوں، یا جن کے عزائم و عمل کو امریکی شہریوں، مفادات یا قومی سلامتی، امریکہ کی بیرونی پالیسی یا معیشت کے لیے خطرے کا باعث گردانا جاتا ہو‘‘۔ اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ سید صلاح الدین کے ساتھ لین دین پر ممانعت عائد کردی گئی ہے، جب کہ امریکہ میں اُن کی کسی بھی جائیداد یا مفاد کو منجمد کردیا گیا ہے۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم عسکری تنظیموں اور استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں نے امریکی فیصلے کی کڑی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت کو، جو ان کے بقول، ’’کشمیر کے ایک وسیع علاقے پر زبردستی قابض ہے، خوش کرنے کے لئے ایسا کیا ہے‘‘۔

عسکری تنظیموں نے فیصلے کو ’’بلا جواز قرار دے دیا ہے؛ اور کہا ہے کہ ’’صلاح الدین دہشت گرد نہیں بلکہ مجاہدِ آزادی ہیں جو کشمیری کو اُن کا پیدائشی حق دلانے کے لئے لڑ رہے ہیں‘‘۔ اُن کے بقول، ’’بھارت اور اس کی مسلح افواج کی طرف سے کشمیریوں پر جاری زیادتیوں اور صوبے میں جاری ظلم و بربریت پر امریکہ کی خاموشی پر بھی احتجاج کیا‘‘۔

جمعہ کو وادئ کشمیر کے کئی حصوں میں امریکی فیصلے کے خلاف مظاہرے کئے گئے۔ اطلاعات کے مطابق، اس دوران، بعض مقامات پر جن میں سوپور شہر بھی شامل ہے، مظاہرین اور پتھراؤ کرنے والے ہجوموں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ حفاظتی دستوں نے مظاہرین پر اشک آور گیس چھوڑی اور بانس کے ڈنڈے چلائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG