رسائی کے لنکس

logo-print

خشوگی کے قتل کے ذمہ دار سعودی ولی عہد ہیں: امریکی سینیٹ


نومبر 2018ء میں ارجنٹائن میں ہونے والے 'جی-20' اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کی لی گئی ایک تصویر (فائل فوٹو)

جمعرات کو منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینیٹ کا ایوان سمجھتا ہے کہ "سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جمال خشوگی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔"

امریکہ کی سینیٹ نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو صحافی جمال خشوگی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی ہے۔

قرارداد امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ سینیٹر باب کورکر نے پیش کی تھی جس میں سعودی ولی عہد کو خشوگی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی یہ قرارداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے مؤقف کے بھی برعکس ہے جو سعودی ولی عہد کے خشوگی کے قتل میں براہِ راست ملوث ہونے کے تاثر کو رد کرتی آئَی ہے۔

امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد کے خلاف یہ قرارداد جمعرات کی شب متفقہ طور پر منظور کی جس کے بعد اب اسے ایوانِ نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔

اگر ایوانِ نمائندگان نے بھی اس قرارداد کی منظوری دیدی تو یہ صدر کے پاس دستخط کے لیے بھیجی جائے گی جنہیں اسے قبول کرنے یا پھر رد کرنے کا اختیار ہوگا۔

سعودی ولی عہد کے خلاف قرارداد ریاست ٹینے سی سے منتخب ری پبلکن سینیٹر باب کورکر نے پیش کی تھی۔
سعودی ولی عہد کے خلاف قرارداد ریاست ٹینے سی سے منتخب ری پبلکن سینیٹر باب کورکر نے پیش کی تھی۔

لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا یہ قرارداد ایوانِ نمائندگان میں کرسمس کی چھٹیوں سے قبل زیرِ بحث آسکے گی یا ایوان کی ری پبلکن قیادت اسے آئندہ سال آنے والے نومنتخب ایوان کے لیے چھوڑ جائے گی۔

جمعرات کو منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی سینیٹ کا ایوان سمجھتا ہے کہ "سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جمال خشوگی کے قتل کے ذمہ دار ہیں" اور"سعودی عرب کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس قتل کے تمام ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کرے۔"

قرارداد کی منظوری کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس کے محرک سینیٹر باب کورکر کا کہنا تھا کہ امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پر سعودی ولی عہد کو خشوگی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے اور اس بارے میں ایک مضبوط موقف اپنا یا ہے۔

سینیٹ کی قرارداد پر اپنے ردِ عمل میں وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی حکومت پہلے ہی خشوگی کے قتل کے 17 ملزمان پر پابندیاں عائد کرچکی ہے۔

تاہم ترجمان نے حکومت کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اپنی جگہ برقرار ہیں اور امریکہ سمجھتا ہے کہ اپنے ان مفادات کے تحفظ اور خشوگی کے قتل کے ذمہ داران کے ساتھ انصاف کے دونوں اہداف بیک وقت حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

سینیٹ کی قرارداد ٹرمپ حکومت کے موقف کے بھی برعکس ہے جو خشوگی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے براہِ راست ملوث ہونے کا الزام مسترد کرتی آئی ہے۔ (فائل فوٹو)
سینیٹ کی قرارداد ٹرمپ حکومت کے موقف کے بھی برعکس ہے جو خشوگی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے براہِ راست ملوث ہونے کا الزام مسترد کرتی آئی ہے۔ (فائل فوٹو)

سعودی ولی عہد کے خلاف قرارداد کی منظوری سے قبل امریکی سینیٹ نے جمعرات کو ایک اور قرارداد بھی منظور کی تھی جس میں امریکی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ یمن میں جاری جنگ میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی حمایت ختم کرے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک ہی روز میں سعودی عرب کی مخالفت میں دو قراردادوں کی منظوری ظاہر کرتی ہے کہ امریکی قانون ساز ٹرمپ حکومت کی سعودی عرب کے متعلق پالیسی سے مطمئن نہیں اور اس پر نظرِ ثانی چاہتے ہیں۔

دونوں قراردادوں کے محرک امریکی سینیٹرز نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ٹرمپ حکومت کو سعودی عرب کے خلاف سخت موقف اپنانے پر مجبور کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے اور خشوگی کے قتل کی پاداش میں سعودی ولی عہد پر پابندیاں عائد کرنے اور سعودی حکومت کو امریکی اسلحے کی فروخت پر پابندی لگانے کی قرارداد بھی لائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG