رسائی کے لنکس

سینیٹ الیکشن میں مولانا سمیع الحق کو ناکامی کا سامنا


مولانا سمیع الحق پشاور میں ایک جلسے میں تقریر کر رپے ہیں۔ فائل فوٹو

شمیم شاہد

جمعیت العلماء اسلام(س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو سینیٹ کے انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا سمیع الحق خیبرپختونخواہ سے ٹیکنوکریٹس کی نشست پر آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے تاہم انہیں حکمران پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔

غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق مولانا سمیع الحق کو صرف چار ووٹ ملے۔ مولاناسمیع الحق کی جماعت جمعیت العلماء اسلام(س)نے جنوری میں پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر رکھا تھااور انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق کی متحدہ مجلس عمل کی بحالی میں کردار ادا کرنے کے مطالبے مسترد کر دئیے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ آئندہ عام انتخابات میں اتحاد کے بدلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے انہیں سینیٹ میں تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

مولانا سمیع الحق کے کاغذات نامزدگی پر جمعیت العلماء اسلام(ف)کے منحرف رکن فضل شکور خان تجویز کنندہ اور قومی وطن پارٹی کے ناراض رکن سلطان محمد خان نے تائیدکنندہ کی حیثیت سے دستخط کئے تھے۔

سینیٹ میں انتخابات میں شکست سے ان کی جماعت کی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ آئندہ انتخابات کے سلسلے میں ہونے والے اتحاد کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

مولانا سمیع الحق پچھلے کئی دنوں سے شدید علیل ہیں اور وہ راولپنڈی کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

مولانا سمیع الحق اکوڑہ خٹک ضلع نوشہرہ کی معروف درسگاہ دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ ہیں ۔ پاکستان اور افغانستان کے زیادہ تر طالبان عسکریت پسند اس ادارے کے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ اسی بنیاد پر طالبان عسکریت پسند انہیں عزت و احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جبکہ مولانا سمیع الحق نے ابھی تک طالبان عسکریت پسندوں کی کاروائیوں کی مذمت نہیں کی ہے۔

افغان حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کےلئے مولانا سمیع الحق سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG