رسائی کے لنکس

لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کے مجوزہ بل کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ


فائل

پاکستان میں قانون کے مطابق لڑکیوں کی شادی کے لیے کم سے کم عمر 16 سال اور لڑکوں کے لیے 18 سال مقرر ہے، سوائے صوبہ سندھ کی جہاں لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے کم سے کم عمر 18 سال ہے

پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ بالا، سینیٹ کی ایک کمیٹی نے لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 16 سے 18 سال کرنے کے ایک مجوزہ بل کا دوبارہ جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سحر کامران کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے بچوں کی شادی کی ممانعت کے ترمیمی بل 2017 کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ لڑکیوں کی کم سے کم شادی کے عمر 18 سال مقرر کرنا اسلامی احکامات اور روایات کے خلاف ہے۔

اس معاملے پر ملک کے بعض سماجی اور سیاسی حلقوں نے یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ بل کو مستر د کرنے سے پہلے علماء، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی رائے حاصل کی جانی چاہیے تھی۔

کمیٹی کے رکن سینیٹر طاہر مشہدی نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئےاب کمیٹی نے اس بل کا ایک بار پھر جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں قانون کے مطابق لڑکیوں کی شادی کے لیے کم سے کم عمر 16 سال اور لڑکوں کے لیے 18 سال مقرر ہے، سوائے صوبہ سندھ کی جہاں لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے کم سے کم عمر 18 سال ہے۔ تاہم، پاکستان کے بعض علاقوں میں کم عمری یا بچپن میں شادیاں کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے جو کئی سماجی اور معاشرتی مسائل کا باعث بنتا ہے۔

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال میں ماں اور بچے کی صحت کے شعبے کی سربراہ ڈاکڑ سیدہ بتول مظہر نے اس بارے میں وائس امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ"جن لڑکیوں کی 15 یا 16 سال کی عمر میں شادی ہو جائے گی، جسمانی اور ذہنی طور ان کی مکمل نشو نما ہونا باقی ہوتا ہے اور پھر وہ ماں بھی بن جاتی ہیں اور جب وہ زچگی کے عمل سے گزرتی ہیں تو اکثر ان کہ ہڈیاں اتنی بڑھی نہیں ہوتی ہیں کہ بچے قدرتی طریقہ سے پیدا ہو، اس لیے ایسی لڑکیوں کو فسٹیولا کی شکایت ہو جاتی ہے۔"

سیدہ بتول نے کہا اس وجہ سے وہ زندگی بھر کئی مسائل کا شکار رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اس طرح کی چیزوں سے عورت کی زندگی پر بہت ہی خطرناک اثر ہو سکتا ہے اور میں سمجھتی ہوں کی جب تک خواتین کو تعلیم نہیں دی جائے گی ان کی معاش کے ذرائع نہیں ہوں گے اسی وجہ سے بعض لوگوں کے لیے لڑکی ایک بوجھ خیال کی جاتی ہے جس کو والدین دوسرے گھر میں ڈال دیتے ہیں تاکہ ان کو ایک کم بندے کو کھلانا پرؕے۔"

پاکستان میں کم عمری کی شادی کے رجحان کی حوصلہ شکنی اور تدارک کے لیے قوانین موجود ہیں۔ تاہم، سیدہ بتول کے بقول، یہ ایک پیچیدہ سماجی مسئلہ ہے جہاں اس کے تدارک کے لیے سماجی سطح پر کوششوں کی ضرورت وہیں پہلے سے موجود قوانین پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG