رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور: رکشے میں دھماکے سے سات افراد زخمی


پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ چوبرجی کے علاقے میں رکشے میں ہونے والے دھماکے سے کم سے کم سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پنجاب کے انسداد دہشت گردی پولیس کے مطابق، یہ واقعہ جمعے کو سوا گیارہ بجے کے قریب پیش آیا۔ زخمی افراد میں رکشہ ڈرائیور بھی شامل ہے جس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

پولیس حکام اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ دھماکہ خیز مواد رکشے میں رکھا گیا تھا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا، جس سے رکشہ ڈرائیور اور راہ گیر زخمی ہوئے۔

ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور انعام غنی نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ رکشے میں نصب سلنڈر پھٹنے سے ہوا۔ لیکن جائے حادثہ سے دھماکہ خیز مواد ملنے کے بعد تفتیش کا رخ اب ممکنہ دہشت گردی کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے میں تین سے پانچ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے کے بعد پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے اہلکاروں نے بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

پولیس نے رکشہ ڈرائیور اور ایک مشکوک شخص کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

ایس پی سول لائنز پولیس دوست محمد نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ رکشہ ڈرائیور کا ابتدائی بیان قلمبند کر لیا گیا ہے۔

رکشہ ڈرائیور محمد رمضان نے بتایا ہے کہ اس نے ایک سواری کو لاہور کے علاقے شیرا کوٹ سے سمن آباد اُتارا، جس کے بعد وہ چوبرجی کے علاقے میں رفع حاجت کے لیے رکشے سے نکلا ہی تھا کہ زوردار دھماکہ ہو گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، دھماکہ خیز مواد والا تھیلہ رکشے میں رکھا گیا۔ دھماکے کی جگہ سے بال بیئرنگ اور دھماکہ خیز مواد ملا ہے۔ تاہم، مزید تحقیقات جاری ہیں۔

زخمیوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے، جنہیں لاہور کے سروسز اور گنگا رام اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG