رسائی کے لنکس

ایم کیو ایم کے مزید اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑ کر پاک سرزمین میں شامل


رکن قومی اسمبلی سید محبوب عالم۔ فائل فوٹو

پاکستان کی قومی اسمبلی میں تیسری بڑی اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے مزید ایک رکن قومی اسمبلی اور دو اراکین صوبائی اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ ان ارکان میں رکن قومی اسمبلی سید محبوب عالم اور صوبائی اسمبلی کے دو اراکین کامران فاروقی اور سیف الدین خالد شامل ہیں۔ اس سے قبل اسی ہفتے پارٹی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی مزمل قریشی بھی پاک سرزمین میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔

تینوں رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے اور رکنیت سے استعفیٰ دے کر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا اعلان ان رہنماؤں نے پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین سید مصطفیٰ کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ رکن قومی اسمبلی محبوب عالم نے کہا کہ ان کی جماعت کے کارکن شہر میں لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں۔ محبوب عالم کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے سب کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے اُنہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس موقع پر چئیرمین پاک سرزمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت 2018 کے انتخابات کی بھرپور تیاری کررہی ہے۔ ایم کیو ایم نے اپنے ووٹرز کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ لیکن ان کی جماعت منتخب ہوکر کراچی کو پرامن اور دنیا کا ترقی یافتہ شہر بنائے گی۔ اردو بولنے والے ان کی جماعت پر تیزی سے بھروسہ کررہے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات کے بعد سندھ میں پی ایس پی کا حمایت یافتہ وزیر اعلیٰ ہوگا۔

ایک ہفتے میں دو اراکین قومی اسمبلی اور کئی دیگر رہنما ایم کیو ایم چھوڑ کر پاک سر زمین پارٹی میں شامل ہوئے ہیں جبکہ پارٹی کے اہم رہنما شبیر قائمخانی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں جو آج کل پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں شمولیت کے لئے پر تول رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات سے پہلے ایم کیو ایم رہنماؤں میں شدید اختلافات سے پاک سرزمین پارٹی کو تقویت مل رہی ہے جس سے 30 سال کے عرصے سے کراچی میں سب سے بڑی سیاسی قوت متحدہ قومی موومنٹ کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ان اختلافات کے باعث اس سے قبل پارٹی کو سینیٹ انتخابات میں بھی بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاک سرزمین پارٹی کے چئیرمین مصطفیٰ کمال ، صدر انیس قائمخانی سمیت اکثر رہنما ایم کیو ایم ہی میں شامل تھے۔ لیکن پارٹی پالیسیوں سے شدید اختلاف کے بعد اُنہوں نے 2016 میں نئی پارٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG