رسائی کے لنکس

logo-print

'پاکستان خطے ميں امن کے لیے زيادہ کردار ادا نہیں کر سکتا'


فائل فوٹو

مشرقِ وسطیٰ میں کشيدہ صورتِ حال کے پيش نظر پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی وزيرِ اعظم عمران کی خصوصی ہدايت پر ايران، سعودی عرب اور امريکہ کے دورے پر روانہ ہو چکے ہيں۔ اپنے پہلے پڑاؤ ميں وہ ايران پہنچے ہيں جہاں انہوں نے ايرانی ليڈر شپ، بشمول صدر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے۔

شاہ محمود قريشی نے حاليہ صورتِ حال پر پاکستان کا مؤقف ايرانی صدر کے سامنے رکھتے ہوئے خطّے ميں کشيدگی کم کرنے کے لیے معاملات کو افہام و تفہيم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور ديا۔

یاد رہے کہ 3 جنوری کو ايرانی قدس فورس کے جنرل قاسم سليمانی کی عراق ميں امريکی ڈرون حملے ميں ہلاکت کے بعد ايران نے امريکہ کے دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنايا تھا جس کے بعد خطے ميں کشيدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ايران نے دعوی کيا تھا کہ ان ميزائل حملوں ميں تقريباً 80 امريکی فوجی نشانہ بنے ہیں۔ البتہ امريکہ نے ان خبروں کی ترديد کی۔ اس کشیدہ صورتِ حال میں شاہ محمود قريشی کا يہ پہلا غير ملکی دورہ ہے۔

اس سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان واضح کر چکے ہيں وہ جنگ کی صورت ميں کسی بھی فريق کا ساتھ نہیں ديں گے بلکہ اپنی کوششوں سے فريقين کے مابين امن کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کو ترجيح ديں گے۔

ليکن بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی اور امريکی امداد کے پيشِ نظر پاکستان کے لیے ایسی صورتِ حال میں غير جانب دار رہنا مشکل ہو گا۔

نامور محقق اور صحافی احمد رشيد کے مطابق موجودہ حالات ميں پاکستان کی ساکھ اور حيثيت اس خطّے اور باقی ماندہ دنيا ميں بہت نيچے ہے۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی حالت بہت پتلی ہے۔ حکومت سعودی عرب اور دوسرے ممالک سے قرض لیے جا رہی ہے جب کہ دوسری جانب ايران کو مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے ہيں۔

ان کے بقول اس کی ايک چھوٹی سی جھلک ہم ملائیشيا ميں ہونے والی ايک کانفرنس ميں ديکھ چکے ہيں جس ميں ايران، قطر، روس اور باقی ممالک نے شرکت کی اور پاکستان نے شرکت نہیں کی تھی۔

احمد رشيد کا کہنا تھا کہ بيرونی دنيا ميں يہ تاثر ہے کہ اسلام آباد قرضوں کے پيچھے بھاگ رہا ہے اور اس کی اپنی کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں ہے۔

پاکستان کی اہميت کے بارے ميں احمد رشيد کہتے ہیں کہ پاکستان خطے ميں امن کے حوالے سے کچھ زيادہ کردار ادا نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ اپنی اقتصادی حالت مضبوط کرنے کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ ملکی سياسی کشمکش پر اپنی توجّہ مرکوز کرے اور کسی اور کی جنگ ميں نہ پڑے۔

دوسری جانب بھارت بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارتی برّی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ بھارتی پارليمان پورے کشمير کو اپنا حصہ قرار ديتی ہے اور اگر انہيں حکم ملا تو وہ پاکستان کے زيرِ انتظام کشمير کو واپس لينے کے لیے کارروائی کريں گے۔ پاکستان کی فوج کے ترجمان نے اس بيان کو محض شعلہ بيانی قرار ديا تھا۔

اس صورتِ حال پر سابق سيکريٹری خارجہ اور عالمی امور کے ماہر شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ بھارت کی طرف پاکستان کو مستقل بنيادوں پر خطرہ ہے اور اس قسم کی دھمکياں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے ميں کشيدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کيوں کہ پاکستان کے تينوں ممالک، ايران، سعودی عرب اور امريکہ سے اچھے تعلقات ہيں۔

انہوں نے کہا کہ ان ملکوں کو ہم پر اعتماد بھی ہے۔ لہٰذا پاکستان کی کوشش یہ ہے کہ جنرل سليمانی کی ہلاکت کے بعد خطے ميں جاری کشيدگی ميں کمی لائی جائے۔

سابق سيکریٹری خارجہ نے کہا کہ ايران اور سعودی عرب کے اختلافات راتوں رات ختم نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح ايران اور امريکہ کے اختلافات کو بھی چار دہائيوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ اس ضمن ميں پاکستان کی ايک مخلص کوشش ہے کہ کسی طرح ممکنہ تنازع کو ٹال ديا جائے۔

ان کے بقول جب تک کشيدگی رہے گی اس کے اثرات پاکستان پر بھی آئيں گے۔

شمشاد احمد نے مزید کہا کہ چونکہ پاکستان ميں اہلِ تشيع مسلمانوں کی خاصی تعداد موجود ہے تو پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے کو جنگ کے بادلوں سے بچايا جائے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سابق سيکريٹری خارجہ کے مطابق پاکستان کی روایتی پاليسی يہی رہی ہے کہ پاکستان نے ايران اور سعودی عرب کی کشيدگی ميں کسی بھی ملک کی طرف داری نہیں کی۔

انہوں نے يمن کی لڑائی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحاديوں نے يمن ميں ايران کے حمايت يافتہ حوثی باغيوں کے خلاف پاکستان سے مدد مانگی۔ ليکن پاکستان کی پارليمان نے اس کی مخالفت کی۔

شمشاد احمد کے بقول اگرچہ مسئلے حل کرنا پاکستان کے اختيار ميں نہیں۔ لیکن پاکستان اپنی کوششيں جاری رکھے ہوئے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG