رسائی کے لنکس

logo-print

پاک امریکہ تعلقات کی بنیاد سچائی پر ہو گی: شاہ محمود قریشی


پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں فریق نے ’’بغیر لگی لپٹی کے اور حقیقت پسندانہ انداز سے اپنا مؤقف پیش کیا‘‘، اور یہ کہ ’’پاک امریکہ تعلقات میں حائل تعطل ٹوٹ گیا ہے‘‘ اور ’’اب ان تعلقات کی بنیاد سچائی پر مبنی ہوگی‘‘

پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بدھ کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات اور اعلیٰ سطحی امریکی وفد کی اعلیٰ پاکستانی قیادت اور حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران دونوں فریق نے ’’بغیر لگی لپٹی کے اور حقیقت پسندانہ انداز سے اپنا مؤقف پیش کیا‘‘، اور یہ کہ ’’پاک امریکہ تعلقات میں حائل تعطل ٹوٹ گیا ہے‘‘ اور ’’اب ان تعلقات کی بنیاد سچائی پر مبنی ہوگی‘‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اس موقعے پر ’’پاکستان کا نقطہٴ نظر بردباری، خودداری اور ذمہ داری سے پیش کیا گیا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’غیر حقیقی توقعات باندھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی، اور ملاقاتوں میں دونوں فریق نے اپنے تحفظات کا برملا اور کھل کر اظہار کیا‘‘۔

امریکی وزیر خارجہ کے دورہٴ پاکستان کے بعد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ کو نئی منتخب پاکستانی حکومت کے ایجنڈے کو نظر میں رکھنا ہوگا اور یہ کہ جب تک ہم کھل کر بات نہیں کریں گے، بہتر نتائج سامنے نہیں آئیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسی ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک جانے کے بعد وہ واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ مزید گفت و شنید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں فریق نے واضح انداز میں کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، بلکہ یہ معاملہ سیاسی تصفیے کے ذریعے ہی حل ہوگا۔ اس کے لیے، اُنھوں نے کہا کہ ’’ہمیں اپنی تشویش، خواہشات اور تحفظات کو کھل کر بیان کرنا ہوگا، سمجھنا ہوگا اور بہتری کی گنجائش پیدا کرنی ہوگی‘‘۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکی محکمہٴ خارجہ افغان پالیسی کی نگرانی کرے گا، اور عندیہ دیا کہ ’’طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت‘‘ کی ’’ذہنی طور پر گنجائش نکل سکتی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ غیر معینہ مدت تک افغانستان میں رہنا نہیں چاہتا۔ ساتھ ہی، افغان مسئلے کا حل لازم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پہلے بیرون ملک دورے میں، افغانستان جائیں گے۔ اور واضح کیا کہ افغانستان میں امن، استحکام اور علاقائی ترقی پاکستان اور خطے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ اس ضمن میں اُنھوں نے افغانستان کے ساتھ صدیوں پرانے رشتوں کا حوالہ دیا جن میں ثقافتی، مذہبی اور تاریخی روابط اور تعلقات شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پومپیو سے ملاقات کے دوران پاکستان نے تقاضا کیا کہ ملک کی مشرقی سرحد پر امن ضروری ہے اور آئے دن جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور بے گناہ لوگوں کی جانیں ضائع ہونے کا معاملہ کسی کے حق میں نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی منتخب نئی حکومت کا ایجنڈا اصلاحی نوعیت کا ہے، جس میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات پر زور دیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر نشر ہونے والی خبر کہ امریکہ نے پاکستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کیا ہے، جو بات اور مبینہ تلخی، درست نہیں۔ برعکس اس کے، اُنھوں نے کہا کہ دونوں اعلیٰ وفود کی ملاقات کے دوران ’’پیش رفت کے حصول پر رضامندی‘‘ کا واضح پیغام ملا، جو بات، بقول اُن کے، ’’خوش آئند ہے‘‘۔

اس سے قبل، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان دفتر خارجہ میں وفود کی سطح پر باضابطہ بات چیت ہوئی۔

بات چیت کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر جاری ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے وفود نے دو طرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بات چیت کی۔

بیان کے مطابق امریکی ہم منصب سے بات چیت میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے باہمی تعلقات کو احترام اور اعتماد کے بنیاد پر نئی جہت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اولین ترجیح اس کا قومی مفاد ہوگا۔

سیکریٹری پومپیو کے ہمراہ امریکہ کے مسلح افواج کے سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ بھی اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں موجود تھے۔

دونوں رہنماؤں نے وزیرِ اعظم عمران خان اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

امریکی وفد میں سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد بھی شامل ہیں جنہیں امریکی محکمۂ خارجہ نے منگل کو ہی افغانستان کے لیے اپنا نمائندۂ خصوصی مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

خلیل زاد اس سے قبل افغانستان، عراق اور اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر رہ چکے ہیں۔

بعدازاں، پانچ گھنٹے کے دورے کے بعد بھارت روانہ ہونے پر، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ’’ہم نے اُن کی نئی حکومت کے بارے میں بات کی۔ بات چیت دونوں ملکوں کے مابین وسیع جہتی شعبوں، معیشت، کاروبار، تجارت کو پھر سے ترتیب دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ وہ کام جس کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان میں پُرامن تصفیہ حاصل ہو جس کا یقینی طور پر افغانستان کے علاوہ امریکہ اور پاکستان کو بھی فائدہ ہوگا۔ اور مجھے امید ہے کہ جس بات کی ہم نے آج بنیاد رکھی ہے، اُس کے نتیجے میں شرائط پوری ہوں گی ،جس سے کامیابی جاری رکھی جاسکے، ایسے میں جب ہم پیش رفت کی جانب بڑھ رہے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے یہ بات اسلام آباد سے نئی دہلی روانہ ہونے سے قبل اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

یہ معلوم کرنے پر آیا پاکستان کی جانب سے کوئی ٹھوس یقین دہانی حاصل ہوئی ہے جس کے باعث سکیورٹی اعانت بحال ہو سکے؛ پومپیو نے کہا کہ ’’اس کےلیے ابھی ہمیں طویل فاصلہ طے کرنا ہوگا، بہت زیادہ گفت و شنید کرنی ہوگی۔ لیکن فوج کے فوج کےساتھ تعلقات ایک ایسا معاملہ ہے جو اپنی جگہ موجود ہے، جب کہ، یوں کہئیے، کہ کچھ دیگر تعلقات کے ضمن میں معاملہ ایسا نہیں ہے‘‘۔

اُن کے بقول، ’’اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے مشترکہ عزم کو عملی جامہ پہنائیں؛ جب کہ بہت بار ہم نے بات چیت کی اور سمجھوتے کیے ہیں؛ لیکن ہم اِن پر عمل درآمد نہیں کر پائے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG