رسائی کے لنکس

کشمیر کے معاملے پر دنیا کو پاکستانی مؤقف سے آگاہ کیا جا رہا ہے: شہریار آفریدی


فائل فوٹو

پاکستانی پارلمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیرمین شہریار آفریدی نے جو ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں کہا ہے کہ ان کا دورہ نجی نہیں ہے۔ کشمیر کمیٹی کے چیرمین کی حیثیت سے انہیں پاکستان اوورسیز گلوبل فورم نے مدعو کیا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائینز پر میٹنگ تھیں۔ جن کے لئے وہ آئے۔ اور کشمیر کمیٹی اور اس کا چیرمین پاکستان کے دفتر خارجہ کے تعاون سے پاکستان کا موقف۔ خاص طور سے کشمیر کے حوالے سے اس کا موقف۔ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے اس قسم کے دورے کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ نجی اس لئے نہیں ہےکہ وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر کوئی وزیر یا اعلی عہدیدار اس قسم کے دورے پر نہیں جا سکتا۔

اپنی کمیٹی اور اس کے کام کے حوالے سے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی کا کام یہ تھا کہ دنیا کو کشمیر کے (بقول ان کے) تنازعے کے حوالے سے پاکستان کے موقف سے آگاہ کرے۔ جو ان کے کہنے کے مطابق سابقہ کمیٹیاں نہ کر سکیں۔ اور انہوں نے کہا اب ہم ہر سطح پر دنیا بھر میں اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں بڑی تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی کوششوں سے دنیا بھر میں پاکستان کے موقف کو پذیرائی مل رہی ہے۔ ورنہ اب تک دنیا صرف بھارت کے موقف سے آگاہ تھی۔

جب سوال کیا گیا کہ دنیا میں تو بظاہر بھارت کے موقف کو اب بھی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ آپ کیونکر سمجھتے ہیں کہ آپ کوئی فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ ایک خود مختار آزاد مملکت کی حیثیت سے ان کا حق ہے کہ اپنے مفادات کے لئے وہ جس حد تک چاہیں جائیں۔ لیکن جب سے ان کی حکومت آئی ہے، بقول ان کے عالمی تاثر بدلنا شروع ہو گیا ہے۔ اور جو لوگ کشمیر کے مسئلے سے پہلے واقف نہیں تھے۔ اب وہ اس کے بارے میں آگاہ ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ آپ کے بارے ایسی خبریں بھی چھپی ہیں کہ نیو یارک میں کسی تقریب کے دوران آپ کی امریکی کانگریس کے ایک رکن سے کچھ تلخی ہوئی۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت ایک ایسے ملک میں ہیں جہاں آزادی اور حقوق انسانی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اور اسی لئے وہ اس ملک کا احترام کرتے ہیں اور یہ بات اوورسیز پاکستانی گلوبل فورم کی ایک تقریب کی ہے۔ جہاں انہوں نے یہ تجویز دی تھی کہ دنیا میں مختلف حالات میں خاص طور سے کرونا، دہشت گردی، یا اسی نوعیت کے دوسرے حالات میں دنیا سے رخصت ہو جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے اس پر امریکی کانگریس کے رکن نے تجویز دی کہ چین کے جن مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ جنہیں مارا جارہا ہے انہیں بھی اس میں شامل کیا جائے۔ اور شہر یار آفریدی نے کہا انہوں نے اس سے اتفاق کیا اور کہا کہ یقیناً دنیا بھر کی تمام کمیونٹیز کے افراد کے لئے جو غیر معمولی حالات میں جدا ہوئے، خاموشی اختیار کی جائے۔

انہوں کہا کہ بقول ان کے بد نئیتی کے سبب بعض حلقوں نے اسے غلط رنگ دے کر اچھالا۔ اور انہوں نے کہا کہ اسی بدنیتی کا مظاہرہ کر کے مین ہیٹن کی ان کی ایک ویڈیو کو بھی وائرل کیا گیا۔ اور جو کچھ انہوں کہا تھا اس میں سے سیاق و سباق سے الگ کر کے بعض لوگوں نے کلپس کاٹ کر، اپنی مرضی کا ایک پروگرام تیار کر کے سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب ان کی قیادت نے بے سہارا لوگوں کے لئے پناہ گاہیں بنائیں تو اس کا مذاق اڑایا گیا اور جب وہ مین ہیٹن پر گھوم رہے تھے۔ تو ایسے ہی کچھ لوگ نظر آئے۔ جن کو دیکھ کر ان کو خیال آیا کہ اپنے ہم وطنوں کو یہ پیغام دیا جائےکہ ہر ملک میں ایسے لوگ ہوتے ہیں۔ جن کی سہولت اور بہبود کے لئے ان کی حکومتیں کام کرتی ہیں، اور یہہی کام ان کی حکومت بھی کر رہی ہے۔

امریکہ آمد پر نیو یارک ایئرپورٹ پر ان کے ساتھ رویّے کے بارے میں خبروں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہُا تھا کہ پشتو کی ایک ضرب المثل ہے کہ جب تک سچ پہنچے گا۔ جھوٹ گاؤں کے گاؤں تباہ کر دے گا، یہی کچھ ہوا۔ہوم لینڈ سیکیورٹی ایک خود مختار ملک کا ادارہ ہے۔ اپنا اطمنان کرنا اس کا حق ہے۔ میں پہلی بار امریکہ آیا تھا۔ انہوں نے مختلف سوالات کئے، اور مطمئن ہونے کے بعد عزت سے جانے دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG