رسائی کے لنکس

logo-print

شاہ رخ خان سخت گیر سیاسی رہنماوٴں کی تنقید کی زد میں


بھارتی جنتا پارٹی کے کچھ رہنماوٴں نے رد عمل کے طور پر انہیں ’ملک دشمن‘ قرار دیا تو کچھ نے انہیں ’ایجنٹ ‘ کہہ کر پکارا۔ تاہم، شاہ رخ خان نے ان الزامات کی سختی سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ محب وطن ہیں اور انہیں حب الوطنی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں

بالی ووڈ کے مایہ ناز فلمی ستارے، شاہ رخ خان نے اپنے ایک بیان کے بعد ان دنوں سخت مؤقف رکھنے والے بعض ہم وطن سیاسی رہنماوٴں کی تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ شاہ رخ خان نے دو روز قبل اپنی 50ویں سالگرہ کے موقع پر کہا تھا کہ ملک میں ’عدم برداشت اپنی انتہا پر‘ ہے۔

یہ بیان انہوں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں دیا تھا جس پر بھارتی جنتا پارٹی کے کچھ رہنماوٴں نے رد عمل کے طور پر انہیں ’ملک دشمن‘ قرار دیا تو کچھ نے انہیں ’ایجنٹ‘ کہہ کر پکارا۔ تاہم، شاہ رخ خان نے ان الزامات کی سختی سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ محب وطن ہیں اور انہیں حب الوطنی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔

بی جے پی رہنما کیلاش وجے ورگیانے، نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ شاہ رخ خان، حافظ سعید کی زبان بولتے ہیں۔

بھارتی جنتا پارٹی کی جانب سے شاہ رخ خان کو عدم برداشت کے خلاف بولنے پر اس الزام کا بھی سامنا ہے کہ ’شاہ رخ رہتے تو بھارت میں ہیں، لیکن ان کا دل پاکستان کے ساتھ ہے‘۔

شاہ رخ خان نے بھارت میں عدم برداشت کی مخالفت اور اقلیتوں سے نارروا سلوک پر سرکاری ایوارڈ واپس کرنے والے مصنفین، اداکاروں اور سائنسدانوں کی حمایت کی بھی حمایت کی تھی۔

غلام علی کے بھارت میں میوزک کنسرٹس منسوخ
دوسری جانب پاکستان کے نامور غزل سرا غلام علی نے بھارت میں ہونے والے اپنے تمام موسیقی پروگرامز منسوخ کردیئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سیاسی مقاصد کی آڑ میں ناروا سلوک مایوس کُن ہے۔

گزشتہ دنوں سخت گیر سیاسی جماعت شیو سینا نے غلام علی پر واضح کیا تھا کہ وہ ممبئی میں ہونے والے میوزک پروگرامز اس وقت تک نہیں ہونے دے گی جب تک پاکستان سے سرحدی جھڑپیں ختم نہیں ہوجاتیں۔

اس پر غلام علی نے پونے اور ممبئی میں ہونے والے میوزیکل کنسرٹس بھی منسوخ کر دیئے تھے۔

XS
SM
MD
LG