رسائی کے لنکس

logo-print

افغان کرکٹر محمد شہزاد کو پاکستان سے واپس آنے کا ایک ماہ کا نوٹس


فائل

افغان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد شہزاد کو وہاں کے کرکٹ بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے کہ وہ مستقل طور پر افغانستان میں رہائش اختیار کریں، بصورت دیگر ان کا کنٹریکٹ ختم کر دیا جائے گا۔

شہزاد نے دو ہفتے قبل ورلڈ کپ کوالیفائر کے فائنل میچ میں شاندار پرفارمنس دی تھی اور ’مین آف دی میچ‘ قرار پائے تھے۔

شہزاد اس وقت پاکستانی شہر پشاور میں رہائش پذیر ہیں۔ ان پر افغان کرکٹ بورڈ سے اجازت لیے بغیر پشاور کے ایک مقامی ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے پر تین لاکھ افغانی کرنسی کا جرمانہ بھی عائد کیا جاچکا ہے۔ یہ جرمانہ چارہزار امریکی ڈالرز کے مساوی ہے۔

افغان کرکٹ بورڈ نے بیرون ملک رہائش پذیر افغان کھلاڑیوں کے خلاف سخت پالیسی تیار کی ہے اور انھیں وطن واپسی کے لیے ایک ماہ کا الٹی میٹم دیا ہے۔

افغان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین عاطف مشال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن کھلاڑیوں کا بورڈ کے ساتھ معاہدہ ہے وہ بورڈ کی اجازت کے بغیر کسی ملک کا سفر نہیں کرسکتے۔ بیرون ملک رہائش رکھنے والے کھلاڑیوں کو وطن واپسی کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا ہے۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو بورڈ ان سے معاہدہ ختم کردے گا۔

تمام کھلاڑی اور ملازمین کے لیے ضروری ہے کہ وہ افغانستان میں رہیں اس کے علاوہ بورڈ کی منظوری کے بغیر کسی غیرملک میں انھیں کھیلنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

تیس سالہ شہزاد کے والدین کا تعلق افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے ہے اور انھوں نے اپنی ابتدائی زندگی کا زیادہ وقت پشاور میں بطور افغان مہاجر گزارا ہے اور اسی شہر میں انھوں نے شادی کی۔

یاد رہے کہ 2017میں وہ اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی نہیں کرسکے تھے، جس کی وجہ یہ تھی کہ ان پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نےان کا ڈرگ ٹیسٹ مثبت ثابت ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔ یہ پابندی رواں برس جنوری میں ختم ہوئی جس کے بعد انھوں نے زمبابوے میں ہونے والے ورلڈ کپ کوالیفائر میں افغانستان کی نمائندگی کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG