رسائی کے لنکس

logo-print

’شمیما کی برطانوی شہریت ناقابل تردید ثبوت پر منسوخ کی گئی‘


فائل

شام میں داعش کو جلد شکست ہونے کا امکان ہے اور کہا جاتا ہے کہ کُرد ملیشیا اُنہیں مشرقی شام کے اُس علاقے سے بے دخل کر کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لے گی

برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے کے ترجمان نے کہا ہے کہ شمیما بیگم کی برطانوی شہریت ’’ناقابل تردید ثبوت‘‘ کی بنیاد اور سلامتی کی وجوہ کی بنا پر منسوخ کی گئی ہے، اور ’’یہ اقدام بغیر وجہ کے نہیں کیا گیا‘‘۔

19 سالہ شمیما بیگم کو برطانوی شہریت سے محروم کرنے کے اقدام سے یہ تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کہ داعش کے ایک جنگجو کی بیوی ہونے کے ناطے وہ اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ جنگ زدہ علاقے میں کیونکر زندگی گزار سکے گی۔

شمیما بیگم کو گزشتہ ہفتے شام کے ایک حراستی مرکز سے برآمد کیا گیا تھا۔

شام میں داعش کو جلد شکست ہونے کا امکان ہے اور کہا جاتا ہے کہ کُرد ملیشیا اُنہیں مشرقی شام کے اُس علاقے سے بے دخل کر کے علاقے کا کنٹرول سنبھال لے گی۔

اِس تناظر میں، یہ بحث بھی زور پکڑتی جا رہی ہے کہ خانہ جنگی کا وسیع تجربہ رکھنے والے جنگجؤں اور اُن کے بیوی بچوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔

شمیما بیگم نے گزشتہ اختتام ہفتہ ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ اُس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسے ’’بہت سے کٹے ہوئے سر دیکھ کر کوئی ندامت محسوس نہیں ہوئی‘‘ اور یہ کہ’’2017 میں مانچسٹر میں ہونے والا فدائی حملہ درست تھا‘‘، جس میں 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اُن کے اس رویے کے باعث عوام کی طرف سے شدید غم و غصے کے جذبات ابھرے ہیں۔

شمیما نے درخواست کی تھی کہ اسے لندن میں مقیم اُس کے خاندان سے ملا دیا جائے۔ تاہم، مقامی ٹیلی ویژن چینل نے منگل کے روز برطانیہ کے وزیر داخلہ ساجد جاوید کی طرف سے شمیما کی والدہ کو لکھا گیا ایک خط دکھایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُنہوں نے شمیما بیگم کی شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

شمیما بیگم کون ہے؟

شمیما بیگم لندن کے بیتھنل گرین علاقے کے ایک سکول کی بہترین طالب علموں میں سے ایک تھی۔ تاہم، وہ فروری 2015 میں بذریعہ جہاز لندن سے ترکی گئی اور پھر سرحد عبور کرتے ہوئے خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں داخل ہو کر داعش کی رکن بن گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ داعش کی پراپیگنڈا ویڈیوز سے متاثر ہو کر رقعہ چلی گئی۔ تاہم، بعد میں وہ ایک بیٹے کو جنم دینے کیلئے وہاں سے فرار ہو کر لندن آ گئی۔ اُس نے اپنے بیٹے کا نام اپنے جہادی شوہر کی خواہش پر جیراہ رکھا۔ اُس کا شوہر یاگو ریڈیج ہالینڈ نژاد شخص ہے جو داعش میں شامل ہو گیا تھا۔ تاہم، اسے جاسوسی کے شبہے میں داعش نے حراست میں رکھا اور سخت جسمانی سزائیں دیں۔ لیکن، بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔

شمیما اور یاگوریج کا پہلا بیٹا آٹھ ماہ کی عمر میں مر گیا تھا۔ اُس کی ایک بیٹی ثریا بھی ایک سال نو مہینے کی عمر میں انتقال کر گئی تھی۔

شمیما بیگم کا کہنا ہے کہ اُس کے پاس صرف ایک ہی شہریت ہے اور برطانوی حکومت کی جانب سے اُس سے بات کئے بنا اُس کی شہریت منسوخ کرنا غلط ہے جسے وہ قانونی طور پر چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم، شمیما بیگم کی والدہ بنگلہ دیشی نژاد ہیں اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اپنی ماں کے حوالے سے اسے بنگلہ دیش کی شہریت بھی حاصل ہے۔ لیکن، بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شمیما بیگم کے کیس کا بنگلہ دیش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG