رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: پیٹرک شناہن کی وزیرِ دفاع بننے سے معذرت


فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شناہن نے مستقل وزیر دفاع کے منصب سے اپنا نام واپس لے لیا ہے اور یوں وہ اس منصب کیلئے امیدوار نہیں رہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیٹ شناہن نے اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ لہذا، وہ سبکدوش ہو رہے ہیں۔

پیٹرک شناہن کی جگہ فوج کے سکریٹری مارک ایسپر قائم مقام وزیر دفاع کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ پیٹرک شناہن کی طرف سے اپنا نام واپس لینے کے بعد مارک ایسپر وزارت دفاع کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ امریکہ کے مستقل وزیر دفاع کے تقرر میں پہلے ہی خاصی تاخیر ہو چکی ہے اور توقع ہے کہ اس میں مزید تاخیر ہو گی۔

صدر ٹرمپ کے ناقدین پہلے ہی یہ سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ پیٹرک شناہن سینیٹ سے اپنی تقرری کی منظوری حاصل کئے بغیر اپنے منصب پر کیسے فائز رہ سکتے ہیں۔ ان پر صدر ٹرمپ کی فوج سے متعلق حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں۔

پیٹ شناہن بوئنگ جہازوں کی کمپنی کے سابق اعلیٰ عہدیدار تھے۔ انہیں سابق وزیر دفاع جم میٹس نے اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ اس سے پہلے انہیں قومی سلامتی سے متعلق معاملات کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ وہ جم میٹس کی طرف سے دسمبر 2018 میں عہدہ چھوڑنے کے بعد سے قائم مقام وزیر دفاع کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG